ٹوکیو میں ایرانی ہدایت کار محمد رسولوف اور افغان-ایرانی ہدایت کار شہربانو سادات نے جلاوطن فلم سازوں کے لیے الگ آسکر زمرے کو غیر ضروری قرار دیا، جبکہ کیٹ بلانشیٹ کے ڈسپلیسمنٹ فلم فنڈ نے جاپان میں اپنی پہلی مختصر فلمیں دکھائیں۔
وائٹی کی ٹوکیو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول سے رپورٹ کے مطابق ایرانی فلم ساز محمد رسولوف اور ایران میں پیدا ہونے والی افغان ہدایت کار شہربانو سادات نے جلاوطن فلم سازوں کے لیے الگ آسکر زمرے کے خیال کی مخالفت کی۔ یہ سوال اکیڈمی کی حالیہ قواعد میں تبدیلی کے بعد اٹھا، جس کے تحت جلاوطن فلم ساز آسکر کے لیے اہل ہو گئے ہیں۔ یہ گفتگو اس وقت ہوئی جب کیٹ بلانشیٹ کے ڈسپلیسمنٹ فلم فنڈ کی پہلی پانچ مختصر فلموں کا جاپان میں پریمیئر ہو رہا تھا۔ سادات نے کہا کہ انہیں "بے گھر فلم ساز" کا لیبل پسند نہیں اور وہ یقین سے نہیں کہہ سکتیں کہ آسکر ملنے پر بھی وہ ایسے زمرے میں رہنا چاہیں گی۔ رسولوف نے کہا کہ مخصوص زمرے بعض اوقات مسائل پیدا کر سکتے ہیں اور وہ فلم سازوں اور ناظرین کے درمیان فاصلہ کم کرنے پر توجہ دینا پسند کریں گے۔
روٹرڈیم انٹرنیشنل فلم فیسٹیول (IFFR) کی منیجنگ ڈائریکٹر کلیئر اسٹیورٹ، جس کا ہیوبرٹ بالس فنڈ ڈسپلیسمنٹ فلم فنڈ چلاتا ہے، نے یاد دلایا کہ رسولوف کی فلم "دی سیڈ آف دی سیکرڈ فگ"، جو پچھلے دور میں نامزد ہوئی، اس تبدیلی سے فائدہ اٹھانے والی پہلی فلموں میں سے تھی اور اس نے جرمنی کی نمائندگی کی۔ انہوں نے کہا کہ ذاتی طور پر انہیں الگ زمرے کی ضرورت نظر نہیں آتی۔ فنڈ کی شریک بانی بلانشیٹ نے کہا کہ پینل کے تمام شرکاء نے اکیڈمی کے فیصلے کا خیر مقدم کیا کیونکہ یہ ان فنکاروں کی حقیقی صورتحال کو تسلیم کرتا ہے جن کا کیریئر جنگوں اور تنازعات سے اکثر متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پہلے گروپ کی فلموں کی لاس اینجلس میں اکیڈمی کے لیے اہلیت والی اسکریننگ ہو چکی ہے اور نومبر کے وسط میں نیویارک میں ایک اور ہوگی۔
یہ فنڈ ایسے فلم سازوں کی حمایت کرتا ہے جو خود بے گھر ہوئے ہوں یا بے گھری پر مستند کہانیاں سنانے کا تجربہ رکھتے ہوں، اور اسے جنوری 2025 میں IFFR میں شروع کیا گیا۔ پہلے گروپ میں رسولوف، سادات، مو حراوے، حسن قطان اور مارینا ایر گورباچ شامل ہیں، جبکہ دوسرا گروپ اب اپنی فلمیں بنا رہا ہے۔ رسولوف کی مختصر فلم "دی سینس آف واٹر" ایک مہاجر کی تنہائی اور نئی زبان سیکھنے کی جدوجہد پر مرکوز ہے، جبکہ سادات کی "سپر افغان جم" اپنے ہی جسم میں بے آرامی کو تلاش کرتی ہے۔ یہ رپورٹ وائٹی کی پینل کوریج پر مبنی ہے؛ اکیڈمی کے قواعد میں تبدیلی کا مکمل متن اور دائرہ کار یہاں آزادانہ طور پر تصدیق شدہ نہیں ہے۔



