یوکرین کے مطابق روس نے رات بھر 172 ڈرون اور 36 بیلسٹک میزائل داغے، جس سے پانچ علاقوں میں سب سٹیشنز اور دریائے دنیپرو کا ایک پل متاثر ہوا۔
صدر ولودیمیر زیلنسکی کے حوالے سے دی گارڈین، بی بی سی اور یورونیوز نے بتایا کہ روس نے رات بھر یوکرین کے توانائی ڈھانچے پر بڑا حملہ کیا، جس میں کیف سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ گارڈین نے 172 ڈرون اور 36 بیلسٹک میزائلوں کا ذکر کیا، جبکہ بی بی سی نے 30 سے زائد بیلسٹک میزائل اور 170 سے زائد ڈرون بتائے۔ کئی علاقوں میں سب سٹیشن متاثر ہوئے، جن میں ایک وہ بھی ہے جو رِونے اور خملنیتسکی جوہری پلانٹس کو کیف سے جوڑتا ہے۔ رہائشی عمارتیں، ایک کنڈرگارٹن اور دنیپرو پر بنا شمالی پل بھی متاثر ہوئے۔ زخمیوں کی تعداد رپورٹس میں مختلف ہے: کیف اور گردونواح میں پانچ سے لے کر پورے ملک میں نو تک۔
دارالحکومت میں بجلی، پانی اور ہیٹنگ میں خلل پڑا۔ بی بی سی کے مطابق میئر وٹالی کلِچکو نے بعد میں کہا کہ پانی کی فراہمی معمول پر آ گئی ہے اور تقریباً 60 فیصد اپارٹمنٹ عمارتوں کو ہیٹنگ سے جوڑ دیا گیا ہے، جبکہ وزیر توانائی نے پانچ علاقوں میں بجلی کی بندش کی اطلاع دی۔ زیلنسکی نے کہا کہ ابتدائی نتائج کے مطابق ایک اہم توانائی تنصیب کے خلاف شمالی کوریا کے بنائے ہوئے KN-23 میزائل استعمال ہوئے اور 36 میں سے چار میزائل گرا لیے گئے۔ روسی وزارتِ دفاع نے کہا کہ اس کے حملوں کا ہدف توانائی اور ٹرانسپورٹ کی جگہیں تھیں۔ یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ ماسکو سردیوں میں شہریوں کو بجلی اور حرارت سے محروم کرنا چاہتا ہے، جسے وہ جنگی جرم قرار دیتے ہیں؛ زیرِ جائزہ رپورٹس میں روس نے اس وضاحت کو قبول نہیں کیا۔
یہ حملہ ابوظہبی میں روسی، یوکرینی اور امریکی وفود کی ملاقات سے چند دن پہلے ہوا۔ زیلنسکی نے کہا کہ ماسکو ان حملوں کے ذریعے یوکرین کے مذاکراتی مؤقف پر دباؤ ڈال رہا ہے، اور انہوں نے امریکہ اور دیگر اتحادیوں سے فضائی دفاع کے انٹرسیپٹرز کی فراہمی تیز کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے مجوزہ وسیع یورپی سلامتی فریم ورک پر شکوک کا اظہار بھی کیا اور سی این این سے کہا کہ یوکرین روس کے ہاتھوں تقسیم نہیں ہونا چاہتا۔ یہ بیانات یوکرینی حکام اور میڈیا رپورٹس پر مبنی ہیں؛ نقصان اور ہتھیاروں کی اقسام کی آزادانہ تصدیق جاری ہے۔



