TU Wien اور UC San Diego کی ٹیم نے Nature Photonics میں بتایا کہ ہیلیم پر بالائے بنفشی لیزر پلس نے دو الیکٹرانوں کے مربوط عمل سے معمول کی توانائی حد سے اوپر ایکس رے پیدا کیے۔
TU Wien اور یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سین ڈیاگو کے ماہرینِ طبیعیات نے بتایا ہے کہ انہوں نے لیزر سے پیدا ہونے والی روشنی کے معیاری نظریے کی اجازت سے زیادہ توانائی والی ایکس رے پیدا کی ہیں۔ قائم شدہ تصویر میں، جسے ہائی ہارمونک جنریشن کہا جاتا ہے، ایک طاقتور لیزر میدان ایٹم سے ایک الیکٹران کھینچ لیتا ہے، اسے تیز کرتا ہے اور واپس ایٹم کی طرف دھکیلتا ہے، جہاں اس کی توانائی اعلیٰ تعدد روشنی کے نہایت مختصر جھماکوں کی صورت میں خارج ہوتی ہے۔ نظریہ اس عمل کے لیے زیادہ سے زیادہ فوٹون توانائی مقرر کرتا ہے جسے کٹ آف کہا جاتا ہے، اور اس سے آگے اخراج نہایت کمزور متوقع ہوتا ہے۔ Nature Photonics میں شائع نیا کام اس حد سے آگے ایک واضح اشارہ بیان کرتا ہے، جسے محققین ایسے اثر سے منسوب کرتے ہیں جو ایک الیکٹران کے ماڈل میں شامل نہیں۔
یونیورسٹی کے اعلان کے مطابق ٹیم نے ہیلیم ایٹموں پر شدید بالائے بنفشی لیزر پلس ڈالے اور حالات اس طرح رکھے کہ ہیلیم کے دونوں الیکٹران یکے بعد دیگرے الگ ہوں۔ اگرچہ دونوں مختلف لمحات پر آزاد ہوئے، ان کی حرکتیں کوانٹم ربط کے ذریعے جڑی رہیں۔ پلس کو احتیاط سے ڈھال کر محققین نے دونوں الیکٹرانوں کو ایک ہی وقت میں ایٹم پر واپس آنے پر مجبور کیا، چنانچہ دو الیکٹرانوں کی توانائی ایک ساتھ خارج ہوئی اور زیادہ توانائی والا ایک ایکس رے فوٹون بن سکا۔ ناپے گئے طیف میں انہیں مسلسل اخراج کا دوسرا، کمزور سطح مرتفع ملا جو روایتی کٹ آف سے کہیں آگے تک پھیلا تھا۔ یہ اثر ہیلیم میں نظر آیا، جس کے دونوں الیکٹران مضبوطی سے مربوط ہیں، مگر استعمال شدہ تجرباتی حالات میں آرگن اور نیون کے بیرونی الیکٹرانوں میں نظر نہیں آیا۔
محققین کا خیال ہے کہ یہ اخراج ایٹموں کے اندر الیکٹرانوں کے باہمی تعامل کی حساس جانچ بن سکتا ہے، کیونکہ طیف کی شکل، اس کی زیادہ سے زیادہ توانائی اور لیزر پولرائزیشن پر انحصار ان عملوں کی معلومات رکھتے ہیں جو ایٹو سیکنڈ، یعنی سیکنڈ کے ارب ویں حصے کے ارب ویں حصے، میں ہوتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ اصول آگے چل کر مالیکیولوں اور ٹھوس مادوں تک بڑھایا جا سکتا ہے، جس سے کوانٹم ٹیکنالوجی اور نینو مواد کے ڈیزائن میں مدد مل سکتی ہے، مگر یہ استعمال ابھی ثابت نہیں بلکہ امکانی ہیں۔ نتائج ایک ہی تحقیقی اشتراک سے آئے ہیں اور یہاں متعلقہ اداروں کے بیان کے مطابق پیش کیے گئے ہیں؛ میکانزم کی وسعت جانچنے کے لیے آزادانہ تکرار اور مزید نظری کام درکار ہوگا۔



