اسرائیل، ڈنمارک اور جرمنی کے محققین نے ایک واحد مالیکیول موٹر کی اطلاع دی ہے جو کرنٹ گزرنے پر گھومتی ہے اور وولٹیج کے ساتھ سمت بدلتی ہے، جبکہ اس کی گردش موصلیت کو دو درجے تک بڑھا دیتی ہے۔
ایک تحقیقی اشتراک نے ایسی مالیکیولی موٹر کی اطلاع دی ہے جو برقی رو گزرنے پر گھومتی ہے اور وولٹیج کی قطبیت بدلنے پر اپنی گردش کی سمت الٹ دیتی ہے۔ اس کا ڈیزائن ارشمیدس کے پیچ سے ماخوذ ہے، جو پانی اوپر اٹھانے کے لیے استعمال ہونے والا قدیم مرغولی آلہ ہے: بتایا گیا ہے کہ مرغولی شکل کے مالیکیول سے گزرنے والے الیکٹران اسے زاویائی معیارِ حرکت منتقل کرتے ہیں اور اسے گھما دیتے ہیں۔ صرف ایک ملی میٹر کے چند ملینویں حصے لمبا یہ مالیکیول کوپن ہیگن یونیورسٹی میں پروفیسر مائیکل پٹیلکو کے گروپ نے بنایا، اور یہ سلفر ایٹموں کے ذریعے سونے سے جڑتا ہے۔ اسرائیل کے وائزمین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس میں پروفیسر اورین تال اور ڈاکٹر انل کمار سنگھ کی قیادت میں ٹیم نے ایٹمی پیمانے تک تیز کی گئی سونے کی دو نوکوں کے درمیان انفرادی مالیکیول تھامے اور دکھایا کہ وولٹیج ایک حد سے بڑھتے ہی گردش مسلسل ہو جاتی ہے۔ برقی طور پر چلنے والی مالیکیولی موٹریں 2011 سے موجود ہیں، لیکن وہ سطحوں پر کام کرتی تھیں اور اسکیننگ ٹنلنگ مائیکروسکوپ کی نوک پر انحصار کرتی تھیں؛ نئے کام کو پہلی ایسی مثال بتایا گیا ہے جس میں کرنٹ سے چلنے والی موٹر دو الیکٹروڈز سے مضبوطی سے جڑی ہے اور اس کی گردش کی سمت قابو میں رکھی جا سکتی ہے۔
تجربات نے ایک غیر متوقع اثر بھی ظاہر کیا: گھومتا ہوا مالیکیول ساکن مالیکیول کے مقابلے میں کرنٹ کہیں بہتر طور پر گزارتا تھا۔ اس کی وضاحت کے لیے اوگسبرگ یونیورسٹی میں پروفیسر فابیان پاؤلی کی قیادت میں ٹیم نے سپر کمپیوٹر پر کوانٹم میکانیکی سمولیشن چلائیں اور پایا کہ موصلیت مالیکیول کے زاویے پر شدت سے منحصر ہے اور گردش کے دوران دو درجے تک، یعنی تقریباً 100 گنا بڑھ جاتی ہے۔ محققین کے مطابق بجلی کو سب سے بہتر گزارنے والی بعض سمتیں وہ ہیں جن سے مالیکیول ساکن حالت میں قدرتی طور پر گریز کرتا ہے، اور صرف گردش انہیں قابلِ رسائی بناتی ہے۔ اس کے بعد نیلز بوہر انسٹی ٹیوٹ کے پیر ہیڈیگارڈ اور ہواژونگ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے جنگ-تاؤ لو جیسے نظریاتی ماہرین نے ایک سادہ ماڈل بنایا جس نے ناپی گئی گردش اور کرنٹ میں اضافہ دونوں کو دہرایا۔ محققین کے الفاظ میں یہ کام دکھاتا ہے کہ برقی رو سمت دار گردش پیدا کر سکتی ہے اور وہ گردش بدلے میں رو کو قابو کرتی ہے۔
ٹیم کا خیال ہے کہ یہ نتیجہ آگے چل کر مالیکیولی الیکٹرانک پرزوں، اسپنٹرانکس (جو چارج کے علاوہ الیکٹران کی خصوصیات استعمال کرتی ہے) اور نہایت کم مقدار کے مائعات سنبھالنے والے مائیکرو فلوئڈک نظاموں کے کام آ سکتا ہے، اور سائنس دانوں کو ایٹمی پیمانے کے طبعی عمل کے مطالعے کا نیا طریقہ دیتا ہے۔ یہ امکانات ہیں، مصنوعات نہیں: مظاہرہ لیبارٹری الیکٹروڈز کے درمیان تھامے گئے انفرادی مالیکیولوں پر ہے اور کسی آلے میں اطلاق نہیں دکھایا گیا۔ یہ رپورٹ ScienceDaily کی دوبارہ شائع کردہ یونیورسٹی پریس ریلیز پر مبنی ہے؛ ہمارے پڑھے گئے متن میں جریدے کا نام نہیں ہے، اور ہم نے نتائج کی آزادانہ تصدیق نہیں کی اور نہ اصل مقالہ دیکھا ہے، اس لیے تفصیلات کو احتیاط سے لیا جائے۔ تحقیق کو جرمن ریسرچ فاؤنڈیشن، یورپی ریسرچ کونسل اور اسرائیل سائنس فاؤنڈیشن جیسے اداروں سے فنڈنگ ملی۔



