گارڈین میں حوالہ دیے گئے مونزو کے اخراجات کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ برٹش میوزیم میں بایو ٹیپسٹری کے ٹکٹوں کی دوسری فروخت میں نوجوان برطانوی طلب بڑھانے والوں میں شامل تھے۔
گارڈین کی رپورٹ کردہ ڈیجیٹل بینک مونزو کے اخراجات کے اعداد و شمار کے مطابق برٹش میوزیم میں بایو ٹیپسٹری نمائش کی طلب کسی مقبول ثقافتی تقریب جیسی ہو گئی ہے۔ ٹکٹوں کی دوسری فروخت کے پہلے گھنٹے میں مونزو کارڈ ہولڈرز کی میوزیم کو ادائیگیاں 14,100 پاؤنڈ تک پہنچ گئیں، جو عام ہفتے کی صبح سے تقریباً 48 گنا زیادہ تھیں، اور خریداروں میں 55 فیصد کی عمر 35 سال سے کم تھی۔ بینک کے مطابق یہ فلموں "دی اوڈیسی" اور "اسپائیڈر مین: برانڈ نیو ڈے" کے افتتاحی دن کی صبح کے اخراجات سے تقریباً دگنا ہے، تاہم یہ اعداد صرف مونزو صارفین کے ہیں، تمام خریداروں کے نہیں۔
اس موازنے کی کچھ حدود ہیں جو اعداد و شمار خود واضح کرتے ہیں۔ عام بالغ ٹکٹ مصروف اوقات میں 33 پاؤنڈ اور غیر مصروف اوقات میں 27 پاؤنڈ کا ہے، جو سنیما کے اوسط ٹکٹ سے کہیں مہنگا ہے، اور دستیابی محدود ہے؛ اسی لیے بایو ٹکٹوں پر اوسط خرچ 97 پاؤنڈ رہا جبکہ اسپائیڈر مین کی افتتاحی صبح 19 پاؤنڈ تھا۔ دو گھنٹے میں مونزو صارفین نے 30,500 پاؤنڈ خرچ کیے، تقریباً نصف خریدار لندن سے باہر تھے اور گلاسگو تک سے خریداری ہوئی۔ گارڈین کے مطابق ٹکٹ تین گھنٹوں میں فروخت ہو گئے، جبکہ پہلی لہر کو 24 گھنٹے لگے تھے۔
گارڈین کے مطابق نارمن فتح کی تقریباً 1,000 سال پرانی کڑھائی دار دستاویز یہ ٹیپسٹری 11ویں صدی میں فرانس لے جائے جانے کے بعد پہلی بار انگلینڈ میں نمائش کے لیے رکھی گئی ہے۔ برٹش میوزیم نے ردعمل کو غیر معمولی قرار دیا اور لمبی قطاروں کو کم کرنے کے لیے انتظامات بدلے، جن میں زائرین پر تصویر کشی کی پابندی بھی شامل ہے۔ گارڈین کے حوالہ دیے گئے تبصرے نمائش کی جانب سے فن کی تکنیکی مہارت اور کہانی بیان کرنے کی صلاحیت کو سراہتے ہیں، اور اخبار کے نقاد نے اسے شاہکار کہا۔ ورثے کے اداروں کے لیے یہ واقعہ اشارہ دیتا ہے کہ قرونِ وسطیٰ کی کسی شے تک نادر رسائی غیر متوقع حلقوں کو بھی کھینچ سکتی ہے، البتہ ایک بینک کے صارفین کا ڈیٹا یہ نہیں بتاتا کہ یہ حلقہ کتنا نمائندہ ہے۔

