لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے 51.79 فیصد ووٹ لے کر چوتھی مدت جیت لی ہے، جبکہ حریف فلاویو بولسونارو نے نتیجہ کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
بی بی سی نیوز نے سرکاری نتیجے کے حوالے سے بتایا ہے کہ برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے صدارتی انتخاب کا رن آف جیت کر چوتھی مدت حاصل کر لی ہے۔ انہیں 51.79 فیصد ووٹ ملے اور وہ دائیں بازو کے حریف فلاویو بولسونارو سے تقریباً 44 لاکھ ووٹوں سے آگے رہے۔ یہ ایک نمایاں واپسی ہے: 4 اکتوبر کے پہلے مرحلے میں بولسونارو 47 فیصد اور لولا 45 فیصد کے ساتھ آگے تھے، اور 1985 میں سویلین حکومت کی بحالی کے بعد لولا پہلے صدر ہیں جو پہلا مرحلہ ہارنے کے بعد منتخب ہوئے۔ ساؤ پالو میں حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے لولا نے اسے "منفی پن اور جھوٹ" کی شکست قرار دیا اور وعدہ کیا کہ نئی مدت میں وہ برازیلی عوام کی بات زیادہ سنیں گے۔
سزا یافتہ سابق صدر جائر بولسونارو کے بیٹے فلاویو بولسونارو نے اب تک نتیجہ تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے اور اسے "ناقابلِ فہم" کہہ کر منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے اعتراضات کا مرکز سپریم کورٹ کے جج کرسچیانو زانن کا وہ فیصلہ ہے جس کے تحت ملک بھر میں ووٹنگ دو گھنٹے بڑھائی گئی، تاہم بی بی سی کے مطابق دونوں مہمات نے اضافی وقت مانگا تھا؛ لولا کی ٹیم نے ساؤ پالو اور باہیا میں بسوں کی کمی کا حوالہ دیا جبکہ بولسونارو کی ٹیم نے دیگر علاقوں میں شدید بارش کا۔ سپریم الیکٹورل کورٹ کے سربراہ کاسیو نونیس مارکیس، جنہیں جائر بولسونارو نے مقرر کیا تھا، نے لولا کی جیت کی تصدیق کی اور کہا کہ وقت بڑھانے سے نتیجہ تبدیل نہیں ہوا۔ کلاڈیا شین باؤم، مارک کارنی، اُرسلا فون ڈیر لائن اور ایمانوئل میکخواں سمیت کئی رہنماؤں نے لولا کو مبارکباد دی، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بغیر کسی ثبوت کے کہا کہ یہ "ایک اور دھاندلی زدہ انتخاب لگا"۔
مالیاتی منڈیوں نے شدید ردِعمل دیا۔ الجزیرہ کے مطابق اسپاٹ ٹریڈنگ میں برازیلی ریال ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 12 فیصد گرا اور سرکٹ بریکر فعال ہونے کے بعد اسٹاک ایکسچینج میں 30 منٹ کے لیے ٹریڈنگ روک دی گئی، کیونکہ جن سرمایہ کاروں نے بولسونارو کی جیت اور سخت مالیاتی پالیسی کی توقع پر داؤ لگایا تھا وہ اپنی پوزیشنیں بدل رہے تھے۔ سرکاری قرض پہلے ہی جی ڈی پی کے 82 فیصد سے زیادہ ہے اور لولا کی ٹیم 2030 تک جی ڈی پی کے تقریباً 1.3 فیصد کے بجٹ سرپلس کا ہدف رکھتی ہے، لیکن الجزیرہ کے حوالے سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اخراجات میں کمی کی تفصیلات موجود نہیں اور اب توجہ ان کے وزیرِ خزانہ کے انتخاب پر ہوگی۔ نئی مدت 5 جنوری کو شروع ہو کر 2030 تک جاری رہے گی، اور بی بی سی کے مطابق لولا کو منقسم ملک، نتیجے کو چیلنج کرنے والے حریف اور بولسونارو کے اتحادیوں سے بھرے کانگریس کا سامنا ہوگا۔



