رائٹرز کے مطابق ہیوسٹن میں ناسا کی CHAPEA رہائش گاہ سے چار رضاکار 378 دن کے نقلی مریخ مشن کے بعد باہر آئے۔
رائٹرز کی 2 نومبر 2026 کی ویڈیو رپورٹ کے مطابق ناسا کے دوسرے CHAPEA (کریو ہیلتھ اینڈ پرفارمنس ایکسپلوریشن اینالاگ) مشن کے چار رضاکار ہیوسٹن کے جانسن اسپیس سینٹر میں اپنی نقلی مریخی رہائش گاہ سے 378 دن کی تنہائی کے بعد باہر آ گئے۔ ناسا نے مشن 2 کے عملے کے نام راس ایلڈر، ایلن ایلس، میتھیو مونٹگمری اور جیمز اسپائسر بتائے ہیں، اور ان کا قیام 31 اکتوبر 2026 تک طے تھا۔ رضاکار کبھی زمین سے باہر نہیں گئے؛ یہ منصوبہ کسی اور دنیا پر طویل قیام کے حالات کی زمینی مشق ہے۔
CHAPEA ایسے مشنوں کا سلسلہ ہے جو مریخ کی سطح پر ایک سال کے قیام کی نقل کرتے ہیں۔ ہر مشن میں چار ارکان 1,700 مربع فٹ کی الگ تھلگ، تھری ڈی پرنٹ شدہ رہائش گاہ میں رہتے ہیں، جہاں وہ نقلی اسپیس واک کرتے ہیں اور جسمانی و رویّے کی صحت اور کارکردگی کا ڈیٹا فراہم کرتے ہیں۔ رہائش گاہ کے اندر سے ناسا کی اپ ڈیٹس میں روزمرہ زندگی، تہواروں، محدود وسائل اور دو ہفتے کے نقلی مواصلاتی بلیک آؤٹ کا ذکر تھا، جن کا مقصد فاصلے اور محدود جگہ کے دباؤ کی نقل کرنا تھا۔
رائٹرز کی فوٹیج عملے کے باہر آنے کو دکھاتی ہے اور اسے مشن کے اختتام کی خبری کوریج سمجھنا چاہیے، سائنسی ڈیٹا نہیں۔ ناسا کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق چاند اور مریخ کی طویل مدتی مہمات میں خطرات اور اقدامات کا موازنہ کرنے میں مدد دے گی، اور مطالعے کی قیادت پرنسپل انویسٹی گیٹر گریس ڈگلس کر رہی ہیں۔ پہلا CHAPEA مشن 25 جون 2023 سے 6 جولائی 2024 تک جاری رہا تھا، اور اس دوسرے مشن کے تفصیلی نتائج ابھی جاری نہیں ہوئے۔


