'دی رولنگ کلاس'، 'دی چینجلنگ' اور 'رومیو از بلیڈنگ' بنانے والے ہنگری نژاد فلم ساز منگل کو لاس اینجلس میں انتقال کر گئے؛ دی ہالی ووڈ رپورٹر کے مطابق اہلِ خانہ نے اعلان کیا۔

'دی رولنگ کلاس'، 'دی چینجلنگ' اور 'رومیو از بلیڈنگ' کے ہنگری میں پیدا ہونے والے ہدایت کار پیٹر میڈک منگل کو لاس اینجلس میں 88 برس کی عمر میں انتقال کر گئے، دی ہالی ووڈ رپورٹر کے مطابق ان کے اہلِ خانہ نے یہ اعلان کیا۔ میڈک 23 دسمبر 1937 کو بوڈاپیسٹ میں پیدا ہوئے اور 1956 میں کمیونسٹ حکومت کے خلاف ہنگری کی بغاوت کے دوران انگلینڈ فرار ہو گئے۔ اوپیرا گلوکارہ پھوپھی کی مدد سے انہیں ایسوسی ایٹڈ برٹش پکچر کارپوریشن میں کام ملا اور انہوں نے ایڈیٹر، کیمرہ مین اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے طور پر آغاز کیا، پھر ٹیلی ویژن کی ہدایت کاری کی طرف گئے۔

ان کی پہلی فیچر فلم گلینڈا جیکسن کے ساتھ 'نیگیٹوز' (1968) تھی، جس کے بعد 1972 میں 'اے ڈے اِن دی ڈیتھ آف جو ایگ' اور 'دی رولنگ کلاس' آئیں۔ 'دی رولنگ کلاس' میں پیٹر او ٹول نے ایسے امیر زادے کا کردار ادا کیا جو خود کو پہلے حضرت عیسیٰ اور پھر جیک دی رپر سمجھتا ہے؛ فلم کانز کے مقابلے میں دکھائی گئی اور او ٹول کو آسکر نامزدگی ملی۔ جارج سی اسکاٹ کی بھوت کہانی 'دی چینجلنگ' (1980) اپنی صنف میں سنگِ میل بنی؛ میڈک نے بتایا کہ مارٹن اسکورسیزی، اسٹیون اسپیلبرگ، گیرمو ڈیل ٹورو اور الیخاندرو امیناباڑ اسے سراہتے ہیں۔ بعد میں انہوں نے 'دی کریز'، 'لیٹ ہم ہیو اٹ' اور گیری اولڈمین کے ساتھ 'رومیو از بلیڈنگ' بنائیں، نیز 'ہومیسائیڈ'، 'بریکنگ بیڈ' اور 'دی وائر' کی اقساط اور پیٹر گیبریئل اور پنک فلائیڈ کے ابتدائی میوزک ویڈیوز کی ہدایت کی۔

ان کے کیریئر میں مشکلات بھی آئیں۔ پیٹر سیلرز کے ساتھ قزاقوں کی کامیڈی 'گھوسٹ اِن دی نون ڈے سن' (1974) کولمبیا پکچرز نے سینماؤں میں کبھی ریلیز نہیں کی؛ میڈک نے اس فلم بندی کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا ڈراؤنا خواب قرار دیا اور 2018 کی دستاویزی فلم 'دی گھوسٹ آف پیٹر سیلرز' میں اسے دوبارہ کھنگالا۔ انٹرویوز میں وہ کہتے تھے کہ ہدایت کاری خون میں ہو تو کبھی ختم نہیں ہوتی۔ پسماندگان میں بچے کرسٹوفر، جوشوا، کیرن اور کارنیلیا اور پوتے پوتیاں شامل ہیں۔ یہ رپورٹ دی ہالی ووڈ رپورٹر کے تعزیتی مضمون اور اس میں نقل کیے گئے خاندانی اعلان پر مبنی ہے۔