ایسوسی ایٹڈ پریس کی ویڈیو رپورٹ کے مطابق صنعتی اور توانائی کے مقامات پر روسی حملوں سے فولاد کی پیداوار رک رہی ہے اور اناج کی ترسیل تھم گئی ہے، جبکہ امریکی امداد کم ہو رہی ہے۔
3 نومبر 2026 کو شائع ہونے والی ایسوسی ایٹڈ پریس کی ویڈیو رپورٹ کے مطابق یوکرین کے صنعتی اور توانائی کے ڈھانچے پر روسی حملے فولاد کی پیداوار اور زرعی برآمدات میں خلل ڈال رہے ہیں۔ اے پی کے مطابق کارخانے بند ہو گئے ہیں اور اناج کی ترسیل رک گئی ہے، جس سے روزگار خطرے میں ہے اور معاشی بحران گہرا ہو رہا ہے۔ یہ ویڈیو ایک خبری رپورٹ ہے، کسی ایک حملے کی براہِ راست کوریج نہیں؛ فولاد اور اناج کی تفصیلات اے پی کی اپنی رپورٹنگ سے ہیں، آزاد تصدیق سے نہیں۔
رپورٹ کے پیچھے وسیع تر رجحان دیگر ذرائع میں بھی درج ہے۔ دی گارڈین نے 3 نومبر کو بتایا کہ روس نے رات بھر نو علاقوں پر 289 حملہ آور ڈرون، 17 بیلسٹک میزائل اور 59 کروز میزائل داغے، بجلی گھروں کو نشانہ بنایا اور ہسپتالوں کو نقصان پہنچایا، اور صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ اس بمباری سے ہنگامی بجلی کی بندش ہوئی۔ فرانس 24 کے بزنس پروگرام نے بھی اسی دن جائزہ لیا کہ حملے یوکرین کی بچی کھچی معیشت کو کیسے کھوکھلا کر رہے ہیں۔ فولاد سازی جیسی بھاری صنعت کے لیے قابلِ اعتماد بجلی لازمی ہے، اسی لیے توانائی پر حملوں کے معاشی اثرات نشانہ بننے والے مقامات سے کہیں آگے تک پھیلتے ہیں۔
اے پی کے مطابق امریکی امداد کم ہونے کے ساتھ یوکرین کا معاشی منظرنامہ بگڑ رہا ہے اور یورپی حمایت پر انحصار بڑھ رہا ہے۔ تجارتی پالیسی ایک اور دباؤ ہے: یورونیوز نے بتایا کہ یوکرینی وزیرِ اعظم سرہی کوریتسکی نے اس کے توسیعی سربراہی اجلاس میں کہا کہ رکنیت کے بعد یوکرینی گندم اور اناج پر یورپی یونین کی کوئی بھی پابندی عارضی ہونی چاہیے اور اس میں اخراج کی واضح شرائط ہوں، جبکہ یورپی کمیشن نے گزشتہ ماہ بعض زرعی مصنوعات کو خارج کرنے کی تجویز دی تھی۔ صنعتی پیداوار اور برآمدات کے نئے تصدیق شدہ اعداد و شمار آنے پر ریپوریکس اس خبر کو اپ ڈیٹ کرے گا۔


