ایران کے یہ کہنے کے بعد کہ امریکہ کے ساتھ ثالثوں کے ذریعے مذاکرات جاری ہیں، 2 نومبر کو تیل 16 اکتوبر کے بعد کی کم ترین سطح پر آ گیا، جس سے ایئر لائن کے حصص بڑھے اور حکومتی قرضوں کی لاگت کم ہوئی۔

دی گارڈین کے مطابق عالمی معیار برینٹ خام تیل کی قیمت پیر 2 نومبر کو 6.5 فیصد سے زیادہ گر کر 105.55 ڈالر فی بیرل تک آ گئی، جو 16 اکتوبر کے بعد کی کم ترین سطح ہے۔ سی این بی سی نے بھی بتایا کہ امریکہ اور ایران کے سفارتی راستہ اپنانے کی خبروں کے بیچ خام تیل میں 7 فیصد سے زیادہ کی فروخت ہوئی۔ یہ کمی تہران کے ان اشاروں کے بعد آئی کہ آٹھ ماہ پرانی جنگ ختم کرنے کے لیے واشنگٹن سے رابطے جاری ہیں، اور یہ امریکی وسط مدتی انتخابات سے ایک دن پہلے ہوئی۔

سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ثالثوں کے ذریعے مشاورت بہت شدید ہے اور ایران نے اپنی شرائط اور تجاویز پیش کر دی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ہفتے کے آخر میں قطری حکام نے 6 ارب ڈالر سے زیادہ کے ایرانی اثاثے جاری کروانے کی کوشش کی تاکہ تہران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی اجازت دے سکے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے مذاکرات میں اپنی حکومت کو اختیارات دیے ہیں۔ دوسری طرف ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو آیوا کے ووٹروں سے کہا کہ پیش رفت نہ ہوئی تو ایران کو "ہتھوڑا" ملے گا، جو یاد دلاتا ہے کہ سفارت کاری اب بھی نازک ہے۔

مارکیٹوں نے تیزی سے ردعمل دیا۔ برٹش ایئرویز کی مالک کمپنی آئی اے جی کے حصص لندن میں 4.2 فیصد بڑھے اور یونائیٹڈ ایئر لائنز نیویارک میں 7 فیصد چڑھی، جبکہ دس سالہ برطانوی سرکاری بانڈز کا منافع تقریباً 0.1 فیصد پوائنٹ گر کر 22 ستمبر کے بعد کی کم ترین سطح پر آ گیا۔ اس کمی سے عالمی معیشت پر مہنگائی کے دباؤ میں کچھ کمی کی امید بڑھی۔ آئی جی کے تجزیہ کار کرس بیوشیمپ نے اسے ان اسٹاک مارکیٹوں کے لیے خوش آئند خبر قرار دیا جو تیل کی بڑھتی قیمت سے دباؤ میں تھیں، مگر خبردار کیا کہ وسط مدتی انتخابات کے بعد ٹرمپ کے آخری داؤ کا خطرہ باقی ہے۔ تیل اب بھی 100 ڈالر فی بیرل سے کافی اوپر ہے، اس لیے پائیدار راحت اس پر منحصر ہے کہ مذاکرات سے ہرمز دوبارہ کھلتا ہے یا نہیں۔