جمعہ کو امریکی ٹیک شیئرز میں تیزی سے کمی آئی: انٹیل 30 فیصد تک گرا اور الفابیٹ کے ایک دن پہلے 500 ارب ڈالر کھونے کے بعد نیس ڈیک دو ماہ سے زائد کی کم ترین سطح پر کھلا۔

30 اکتوبر بروز جمعہ امریکی ٹیکنالوجی اسٹاکس میں تیزی سے گراوٹ آئی، کیونکہ مصنوعی ذہانت کے ڈھانچے کی بڑھتی لاگت پر سرمایہ کاروں کی تشویش الفابیٹ سے کہیں آگے پھیل گئی۔ بی بی سی کے مطابق ٹیکنالوجی کے وزن والا نیس ڈیک 2.5 فیصد کمی کے ساتھ کھلا، جو دو ماہ سے زائد کی کم ترین سطح ہے، جبکہ ریڈٹ اور روبلاکس بھی گرتے رہے۔ چپ بنانے والی کمپنی انٹیل نے اے آئی پر اخراجات بڑھانے کے منصوبے کے باوجود کمپیوٹر مارکیٹ کے کمزور ہونے کی وارننگ دی، جس کے بعد ابتدائی کاروبار میں اس کے شیئرز 30 فیصد تک گر گئے اور کمپنی 130 ارب ڈالر سے زیادہ مارکیٹ ویلیو کھونے کی راہ پر ہے۔

انٹیل کے چیف فنانشل آفیسر ڈیوڈ زنسنر نے کہا کہ کمپنی اس سال مثبت کیش فلو کی توقع نہیں رکھتی اور چوتھی سہ ماہی کی آمدنی توقع سے کم رہنے کا اندازہ ہے، جبکہ پی سی مارکیٹ کی سست روی کم از کم اگلے سال کی پہلی छमاہی تک جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ سہ ماہی میں آلات پر سرمایہ کاری "اور بھی نمایاں" ہوگی۔ سرمایہ کاروں کی توقعات سے کم نتائج کے بعد ایمیزون کے شیئرز 6 فیصد تک گرے اور پھر سنبھل گئے؛ بی بی سی نے 42 ارب ڈالر کے منفی کیش فلو کی اطلاع دی اور سی ای او اینڈی جیسی کو اخراجات کا دفاع کرتے ہوئے نقل کیا۔ یہ نقصانات جمعرات کو الفابیٹ کی مارکیٹ ویلیو میں 500 ارب ڈالر سے کچھ زیادہ کمی کے بعد آئے، جب اس نے بتایا کہ اس کے اپنے اے آئی خلاصے سرچ اشتہاری آمدنی کو متاثر کر رہے ہیں؛ جمعہ کو اس کا شیئر مزید تقریباً 1 فیصد گرا۔

جمعہ کو شائع ہونے والی اور اس مضمون کے ساتھ شامل رائٹرز کی مارکیٹ ویڈیو کے مطابق ٹیک شیئرز دھڑام سے گرے، ین مستحکم رہا اور بانڈز تقریباً تین سال کے سب سے بڑے ماہانہ فائدے کی طرف بڑھے، کیونکہ سرمایہ کار اس خدشے سے محفوظ ٹھکانے تلاش کر رہے تھے کہ اے آئی پر بھاری اور بڑھتے اخراجات کافی منافع نہیں دیں گے۔ یہ ویڈیو دن کی نقل و حرکت دکھانے والی مارکیٹ رپورٹ ہے، کسی ایک واقعے کی فوٹیج نہیں؛ اوپر دیے گئے اعداد و شمار بی بی سی کی رپورٹنگ سے ہیں۔ نیو یارک ٹائمز کی سرخیاں وسیع تر مارکیٹ کو مستحکم بتاتی ہیں، اور ایس اینڈ پی 500 مہینے میں معمولی کمی کی طرف ہے۔ یہ مضمون سرمایہ کاری کا مشورہ نہیں ہے۔