جمعے کو اٹلی کے درجنوں شہروں میں طلبہ اور مزدوروں نے ریلیاں نکالیں؛ میلان کی پچھلی بدامنی کے بعد اہم مقامات پر سکیورٹی سخت کی گئی اور USB یونین نے عام ہڑتال کی کال دی۔

الجزیرہ اور ڈوئچے ویلے کے مطابق جمعے کو روم، میلان، تورین، بولونیا، جینوا اور نیپلز سمیت اٹلی کے درجنوں شہروں میں دسیوں ہزار طلبہ اور مزدوروں نے مارچ کیا۔ مظاہرین نے اسکولوں اور جامعات کے لیے مزید فنڈز اور بڑھتی ہوئی مہنگائی سے ریلیف کا مطالبہ کیا، اور کئی نے بڑھتے ہوئے فوجی اخراجات پر بھی تنقید کی۔ USB ٹریڈ یونین نے عام ہڑتال کی کال دی، اور ٹرک ڈرائیور، ٹیکسی ڈرائیور اور کسان ریلیوں میں شریک ہوئے۔ روم میں ہزاروں افراد ترمینی اسٹیشن سے کولوسیئم کے پاس سے گزرتے ہوئے چلے؛ کچھ نے نعرہ لگایا کہ اٹلی کو "بم نہیں، زیادہ گھر چاہییں"۔ تورین میں مارچ کے آغاز پر اینٹی رائٹ پولیس سے معمولی جھڑپیں ہوئیں، تاہم DW کے مطابق دوپہر تک کسی بڑی جھڑپ کی اطلاع نہیں تھی۔

حکام نے بڑی تعداد میں پولیس تعینات کی اور کولوسیئم اور میلان کے کیتھیڈرل جیسے مقامات کی حفاظت بڑھا دی۔ یہ اقدامات 17 اور 18 اکتوبر کے ہفتے کے آخر میں میلان میں ہونے والی جھڑپوں کے بعد کیے گئے، جب زیادہ تر نوجوانوں پر مشتمل گروہوں نے دکانیں لوٹیں اور کھڑکیاں توڑیں۔ الجزیرہ کے مطابق اس بدامنی کے بعد وزیر اعظم جورجیا میلونی کی حکومت نے عوامی اجتماعات کے قواعد سخت کیے اور نابالغوں کی حراست پر پابندیاں نرم کیں۔ یہ احتجاج اسکولوں پر قبضوں اور طلبہ کے خیمہ کیمپوں کے کئی ہفتوں بعد ہو رہے ہیں، اور DW کے مطابق تحریک کو فرانس اور اسپین کے ایسے ہی احتجاجوں سے تقویت ملی۔ اطالوی یونینوں نے فرانس، یونان، اسپین، ترکیہ اور مراکش کی یونینوں کے ساتھ مشترکہ اپیل کی کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں اور اسلحے کی ترسیل کے لیے بندرگاہوں کا استعمال ختم کیا جائے۔

حکومت نے معاشی اقدامات سے جواب دیا ہے۔ گزشتہ ہفتے اس نے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ سے جڑی ایندھن کی بلند قیمتوں سے متاثر ٹرک ڈرائیوروں، کسانوں اور ماہی گیروں کے لیے 17 کروڑ 50 لاکھ یورو کے امدادی پیکج پر اتفاق کیا، اور 2027 کے بجٹ مسودے میں 30 سال سے کم عمر کارکنوں کے لیے سالانہ 2,500 یورو کا بونس شامل ہے۔ میلونی نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ یہ اقدامات ان نوجوانوں کو جواب دیں گے جو سمجھتے ہیں کہ ریاست کو ان کی پروا نہیں، مگر زور دیا کہ یہ ان کے لیے نہیں جو کھڑکیاں توڑتے ہیں۔ الجزیرہ نے اعداد و شمار نقل کیے کہ اٹلی میں خوراک، توانائی، ٹرانسپورٹ اور بلوں کی قیمتیں 2000 سے 68 فیصد بڑھی ہیں جبکہ اوسط اجرت تقریباً 5 فیصد گھٹی ہے؛ اس حساب کا ماخذ نہیں بتایا گیا۔ طالبہ بیاتریس چیلیلی نے AFP کو بتایا کہ ٹیوشن فیس اور کرایوں کی وجہ سے طلبہ کی برداشت ختم ہو رہی ہے۔ بجٹ پر حکمران جماعتوں کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔