'سیلون کٹی'، 'کیلیگولا' اور 'دی کی' جیسی اشتعال انگیز فلموں کے لیے مشہور اطالوی فلم ساز ٹنٹو براس روم میں 93 برس کی عمر میں انتقال کر گئے، ورائٹی اور یورونیوز کے مطابق۔
اپنی ایروٹک فلموں کے باعث یورپی سنیما کی متنازع ترین شخصیات میں شمار ہونے والے اطالوی ہدایت کار ٹنٹو براس 93 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ورائٹی کے مطابق ان کے خاندان نے بدھ کو اطالوی خبر رساں ایجنسی انسا کو یہ خبر دی، جبکہ یورونیوز کے مطابق ان کا انتقال روم میں ہوا۔ براس 1933 میں میلان میں وینس کے ایک فنکار گھرانے میں پیدا ہوئے، فلمی دنیا میں آنے سے پہلے قانون پڑھا اور پیرس کی فرانسیسی سنیماتھیک میں کام کیا، جہاں ان کی ملاقات روبرتو روسیلینی سے ہوئی اور انہوں نے 'جنرل ڈیلا روورے' میں ان کے معاون کے طور پر کام کیا۔
براس نے 1963 میں 'اِن کاپو اَل موندو' سے بطور ہدایت کار آغاز کیا، جس کا نام بعد میں 'کی لاورا ای پیردوتو' رکھا گیا۔ نوجوانوں کی بے چینی پر بنی اس فلم کا اطالوی سنسر سے ٹکراؤ ہوا، جو ایسے کئی تنازعات میں پہلا تھا۔ 1960 کی دہائی کے آخر میں لندن میں 'ڈیڈلی سویٹ' جیسی انگریزی فلمیں بنانے کے بعد 1970 کی دہائی میں 'سیلون کٹی' سے انہیں بین الاقوامی توجہ ملی، جو برلن کے اس قحبہ خانے پر مبنی ڈرامہ ہے جسے نازی خفیہ ایجنسی استعمال کرتی تھی۔ بیرونِ ملک ان کی سب سے مشہور فلم 'کیلیگولا' کی مالی معاونت پینٹ ہاؤس کے بانی باب گچیونے نے کی؛ ورائٹی کے مطابق گچیونے نے منصوبے پر قبضہ کر کے اداکاروں کا کام ختم ہونے کے بعد فلمائے گئے صریح مناظر شامل کر دیے، جس پر براس اور مصنف گور وڈال نے اپنے نام ہٹوانے کی کوشش کی۔
1980 کی دہائی میں براس اس رخ پر گئے جسے ورائٹی زیادہ نفیس ایروٹزم قرار دیتا ہے، اور اسٹیفانیا سینڈریلی کے ساتھ 'دی کی' بنائی، پھر 'میرانڈا'، 'پاپریکا' اور بعد میں 'فالو' جیسی فلمیں آئیں۔ یورونیوز کے مطابق ستمبر میں وہ 'کول کوورے ان گولا' کی بحال شدہ 4K نمائش کے لیے وینس نہ جا سکے؛ ان کی اہلیہ کاترینا وارزی نے ان کا پیغام پڑھ کر سنایا اور انہیں اطالوی فلمی صحافیوں کا پیترو بیانکی ایوارڈ بھی ملا۔ براس کے پسماندگان میں اہلیہ وارزی اور بچے بونیفاچو اور بیاتریچے شامل ہیں۔ یورونیوز کے مطابق انہوں نے ایک بار خواہش ظاہر کی تھی کہ ان کی راکھ وینس کی جھیل میں بکھیری جائے۔



