صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 26 اکتوبر کو کہا کہ برازیل کا دوسرا مرحلہ 'دھاندلی زدہ' اور 'بدعنوان' نظر آیا، ساتھ ہی کہا کہ انہیں لولا پسند ہیں؛ انتخابی حکام کے مطابق ووٹنگ کے وقت میں توسیع سے نتیجہ نہیں بدلا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر 26 اکتوبر کو کہا کہ برازیل کا صدارتی دوسرا مرحلہ "ایک اور دھاندلی زدہ انتخاب" جیسا لگا، اور کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ یہ بیان بائیں بازو کے موجودہ صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا کے دائیں بازو کے امیدوار فلاویو بولسونارو کو ہرانے کے ایک دن بعد آیا۔ یورونیوز اور DW کے مطابق ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا کہ ووٹنگ "بہت بری لگی" اور "اتنی بدعنوان" تھی، تاہم انہوں نے کہا کہ انہوں نے کسی کی طرف داری نہیں کی، انہیں لولا پسند ہیں اور ان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ نتیجے پر کارروائی کے سوال پر انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ ایسا نہیں چاہتے، اور کہا کہ وہ امریکہ چلا رہے ہیں، برازیل نہیں۔

ٹرمپ نے ووٹنگ کے انتظام پر توجہ دی اور گنتی کے طریقے اور دی گئی توسیع کو "بہت عجیب" قرار دیا۔ DW کے مطابق دو گھنٹے کی توسیع کئی شہروں میں ٹرانسپورٹ کے مسائل کے باعث پولنگ سٹیشنوں تک پہنچنے میں مشکل کی وجہ سے دی گئی تھی، اور بولسونارو کی اپنی مہم نے بھی شدید بارش کے سبب بعض علاقوں میں مزید وقت مانگا تھا۔ انتخابی حکام کا کہنا ہے کہ توسیع سے نتیجہ تبدیل نہیں ہوا۔ DW کے مطابق سرکاری نتائج میں لولا کو تقریباً 51.7 فیصد اور بولسونارو کو 48.2 فیصد ووٹ ملے۔

ان بیانات نے متنازع انتخابی بعد کے ماحول کو بین الاقوامی رنگ دے دیا ہے۔ بولسونارو نے نتیجہ تسلیم کرنا "ناممکن" قرار دیا اور اسے کالعدم کرنے کا مطالبہ کیا، لیکن ان کی لبرل پارٹی نے اس کے بعد لولا کی جیت تسلیم کر لی ہے اور اٹھائے گئے مسائل کی وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔ یورونیوز کے مطابق بولسونارو کا کہنا ہے کہ وہ "اپوزیشن کو منظم کریں گے" اور انہیں پاسپورٹ جمع کرانے اور برازیل نہ چھوڑنے کا حکم دیا گیا؛ انہوں نے یہ حکم سپریم کورٹ کے جج الیگزینڈرے ڈی مورائس سے منسوب کیا، تاہم DW کے مطابق نہ عدالت اور نہ وفاقی پولیس نے اس کی تصدیق کی تھی۔ شامل کی گئی یورونیوز ویڈیو ٹرمپ کے تبصرے بیان کرتی ہے؛ یہ بذاتِ خود انتخاب کے انعقاد سے متعلق کسی دعوے کو ثابت نہیں کرتی۔