جنوری کے بعد اپنے پہلے عوامی بیان میں مائیکل اور سوزن پریٹی نے کہا کہ محکمۂ انصاف نے انہیں نظرانداز کیا اور گمراہ کیا، اور منیاپولس میں ان کے بیٹے کو گولی مارنے والے وفاقی ایجنٹوں کی جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
منیاپولس میں وفاقی امیگریشن ایجنٹوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے 37 سالہ نرس ایلیکس پریٹی کے والدین نے منگل کو پہلی بار عوامی سطح پر بات کی اور ٹرمپ انتظامیہ پر شواہد چھپانے اور ذمہ داروں کو بچانے کا الزام لگایا۔ ایک پریس کانفرنس میں مائیکل اور سوزن پریٹی نے محکمۂ انصاف سے مطالبہ کیا کہ ایجنٹوں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے، اور کہا کہ وفاقی حکام نے انہیں کیس کے بارے میں کوئی بامعنی معلومات نہیں دیں۔ گارڈین کے مطابق مائیکل پریٹی نے کہا، "ہر موڑ پر انہوں نے ہمیں نظرانداز کیا، گمراہ کیا اور ایلیکس کے قاتلوں کو بچایا۔" رائٹرز کی ویڈیو میں جوڑا انتظامیہ پر مقامی استغاثہ سے شواہد روکنے پر تنقید کرتا نظر آتا ہے۔
سابق فوجیوں کے ہسپتال میں کام کرنے والے پریٹی 24 جنوری کو منیسوٹا میں امیگریشن کارروائیوں کے دوران وفاقی ایجنٹوں کی گولی لگنے سے جاں بحق ہوئے۔ گارڈین کے مطابق انتظامیہ نے جلد ہی انہیں مسلح اندرونی دہشت گرد قرار دیا جس نے پرتشدد مزاحمت کی، لیکن واقعے کی ویڈیو فوٹیج نے اس بیان کی تردید کی؛ اس میں دکھائی دیا کہ ان کے ہاتھ میں موبائل فون تھا اور انہوں نے نہ ہتھیار نکالا نہ ایجنٹوں پر حملہ کیا۔ اخبار کے مطابق ان کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا اور ہولسٹر میں رکھے پستول کا ان کے پاس لائسنس تھا۔ سوزن پریٹی نے کہا، "وفاقی حکومت ٹی وی پر آئی اور ایلیکس کے بارے میں جھوٹ بولا۔"
تنازع اس سوال تک بھی پہنچتا ہے کہ تحقیقات کا اختیار کس کے پاس ہے۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ منیسوٹا کو وفاقی اہلکاروں پر دائرۂ اختیار حاصل نہیں، اور گارڈین کے مطابق ریاستی حکام نے حال ہی میں کہا کہ واشنگٹن نے پریٹی اور رینی گڈ کی اموات کی تحقیق کرنے والے تفتیش کاروں سے معلومات کا تبادلہ بند کر دیا ہے۔ رائٹرز کو دیے گئے بیان میں محکمۂ انصاف نے کہا کہ اہلِ خانہ سے رابطہ عموماً کیس کے بعد کے مرحلے میں ہوتا ہے، تحقیقات کے دوران نہیں۔ ساتھ دی گئی ویڈیو والدین کے بیانات پر رائٹرز کی رپورٹ ہے، فائرنگ کی فوٹیج نہیں۔


