ناروے کی قومی سلامتی اتھارٹی کے مطابق نارویجن اداروں پر کامیاب حملے آدھے سال میں تین گنا ہو گئے ہیں، دفاعی اور خلائی شعبے سب سے زیادہ زد میں ہیں، اور مصنوعی ذہانت کمزوریاں ڈھونڈنے کی رفتار بڑھا رہی ہے۔

ناروے کی قومی سلامتی اتھارٹی (NSM) نے منگل 27 اکتوبر کو کہا کہ نارویجن اداروں کو نشانہ بنانے والے 'کامیاب' سائبر حملوں کی تعداد پچھلے چھ ماہ میں تین گنا ہو گئی ہے۔ یہ نتیجہ ایک نئی رپورٹ سے سامنے آیا ہے جس میں ادارے نے ایسا جائزہ عام کیا جو، اس کے بقول، پہلے جاری نہیں کیا گیا تھا۔ NSM کے ڈائریکٹر آرنے کرسچن ہاؤگسٹوئل نے کہا کہ اتھارٹی نے یہ بات اس لیے عام کی کہ نارویجن اداروں کی مزاحمتی صلاحیت اور سائبر کارروائیوں سے نمٹنے کی استعداد دونوں کو مضبوط کرنا 'بالکل ضروری' ہے۔

یورونیوز کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک کی دفاعی صنعت اور خلائی شعبہ سائبر خطرے کے سامنے خاص طور پر کمزور ہیں، اسی طرح اہم بنیادی ڈھانچہ اور قومی سلامتی کے لیے اہم اداروں کو خدمات فراہم کرنے والے ادارے بھی۔ NSM نے کہا کہ کچھ کمپنیاں اور ادارے بڑھتے ہوئے طور پر جاسوسی نما معلومات جمع کرنے، رینسم ویئر اور ڈسٹری بیوٹڈ ڈینائل آف سروس (DDoS) حملوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ادارے نے کسی مخصوص فریق کی نشاندہی نہیں کی۔ یہ رپورٹ یورپ بھر میں مبینہ روسی ہائبرڈ حملوں کے بارے میں بڑھتی ہوئی تنبیہات کے بعد سامنے آئی؛ نارویجن میڈیا نے اگست میں بتایا تھا کہ ایک روسی ہیکر گروپ نے ناروے کے خلاف 'جنگ' کا اعلان کیا اور سرکاری ڈیجیٹل خدمات پر DDoS حملے کی ذمہ داری قبول کی، تاہم NSM کی رپورٹ خود اس اضافے کو کسی گروپ سے منسوب نہیں کرتی۔

ادارے نے مصنوعی ذہانت کو بھی نارویجن کمپنیوں اور اداروں کے لیے 'سنگین خطرہ' قرار دیا۔ ہاؤگسٹوئل نے کہا، 'مصنوعی ذہانت بڑی مقدار میں ڈیٹا کا تجزیہ کرتی ہے اور کمزوریوں کی نشاندہی انسانوں سے زیادہ تیزی سے کرتی ہے'، اور مزید کہا کہ اس سے زیادہ تیز رفتار اور بڑے پیمانے پر حملوں کے نئے مواقع کھلتے ہیں۔ ان کے مطابق خطرہ بڑھ رہا ہے اور سلامتی کے اقدامات نافذ کرنے کی رفتار تیز کرنی ہوگی۔ دستیاب رپورٹنگ میں حملوں کی مکمل تعداد نہیں دی گئی اور نہ یہ بتایا گیا کہ NSM 'کامیاب' حملے کی تعریف کیسے کرتی ہے، اس لیے اضافے کی شدت کو اسی احتیاط کے ساتھ پڑھنا چاہیے۔