برازیلی حکام نے صدارتی انتخاب ہارنے والے فلاویو بولسونارو کے پاسپورٹ جمع نہ کرانے پر منسوخ کر دیے؛ امریکہ جانے کی خبروں کی ان کی مہم نے تردید کی ہے اور پولیس نے تصدیق نہیں کی۔

برازیلی حکام نے 27 اکتوبر کو سینیٹر فلاویو بولسونارو کے پاسپورٹ منسوخ کر دیے، کیونکہ انہوں نے سپریم کورٹ کی مقررہ مہلت تک انہیں وفاقی پولیس کے حوالے نہیں کیا؛ یہ صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں لوئز اناسیو لولا دا سلوا سے ہارنے کے دو دن بعد ہوا۔ گارڈین کے حوالے سے میٹروپولس اور فولیا دی ساؤ پاؤلو سمیت برازیلی میڈیا نے خبر دی کہ وہ امریکہ کے لیے ملک چھوڑ چکے ہیں، لیکن اس کی تصدیق نہیں ہوئی۔ ایک پولیس ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا کہ ان کے برازیل چھوڑنے کا کوئی باضابطہ ریکارڈ نہیں، ارجنٹائن کے حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے داخلے کا کوئی ریکارڈ نہیں، اور ان کی مہم کے کوآرڈینیٹر روجیریو مارینیو نے ان کے جانے کی تردید کی۔

یہ حکم سپریم کورٹ کے جج الیگزینڈر دی موریس نے مبینہ منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے تحت دیا، جس کی بولسونارو تردید کرتے ہیں؛ گارڈین کے مطابق یہ سٹے بازی کی کمپنیوں سے متعلق تقریباً 68 کروڑ پاؤنڈ کی اسکیم ہے۔ پیر کی ایک ویڈیو میں بولسونارو نے کہا کہ انہیں برازیل چھوڑنے سے روک دیا گیا ہے اور انہوں نے کبھی ملک چھوڑنے کا سوچا بھی نہیں۔ منگل کو سپریم کورٹ نے پولیس کو مبینہ غیر ملکی فنڈنگ کے معاملے میں ان کی انتخابی مہم کی تحقیقات کا بھی حکم دیا۔ لولا نے دوسرے مرحلے میں 51.79 فیصد ووٹ لیے جبکہ بولسونارو کو 48.21 فیصد ملے؛ بولسونارو نے شکست تسلیم نہیں کی اور انتخاب منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے، اگرچہ ان کی لبرل پارٹی نے نتیجہ قبول کر لیا ہے۔ لولا کی ورکرز پارٹی کے ارکانِ پارلیمان نے عدالت سے ان کی گرفتاری کا حکم مانگا ہے۔

اس واقعے سے انتخاب کے بعد برازیل کے دائیں بازو کی غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی ہے۔ ان کے والد، سابق صدر جائر بولسونارو، بغاوت کی سازش کے الزام میں نظر بند ہیں، اور بھائی ایڈواردو امریکہ میں رہتے ہیں جبکہ برازیل میں ان کے وارنٹ گرفتاری جاری ہیں۔ گارڈین میں نقل کیے گئے سیاسی ماہرین کہتے ہیں کہ دائیں بازو کی قیادت اب کھلی ہو سکتی ہے۔ یہ رپورٹ لکھے جانے تک ان کا ٹھکانہ غیر مصدقہ تھا، اور جب پولیس اور سپریم کورٹ ان کا پتہ لگائیں گی تو اسے اپ ڈیٹ کرنا ہوگا۔