آسٹریلین سگنلز ڈائریکٹوریٹ کا کہنا ہے کہ اس نے امیڈے میل ویئر آپریشن کے بیک اینڈ تک رسائی حاصل کی اور اس کے کنٹرولر کو دنیا بھر کے تقریباً 1,80,000 کمپیوٹرز سے الگ کر دیا، جن میں کچھ آسٹریلیا میں ہیں۔
آسٹریلیا کی سگنلز انٹیلیجنس ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس نے دنیا بھر میں امیڈے میل ویئر سے متاثرہ تقریباً 1,80,000 کمپیوٹرز سے ایک سائبر مجرم کا رابطہ منقطع کر دیا ہے۔ 27 اکتوبر 2026 کو شائع ہونے والے ABC News کے انٹرویو میں آسٹریلین سگنلز ڈائریکٹوریٹ (ASD) کے قائم مقام ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل برائے انٹیلیجنس تاؤری گریگوری نے کہا کہ ASD کے آپریٹرز نے اس آپریشن کے بیک اینڈ تک رسائی حاصل کی اور امیڈے کنٹرولر کو اس کے متاثرین سے الگ کر دیا۔ انہوں نے کہا، "وہ سائبر مجرم اب ان 1,80,000 کمپیوٹرز تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا اور ڈیٹا چوری نہیں کر سکتا۔" متاثرہ مشینوں میں کچھ آسٹریلیا میں بھی ہیں، اور ASD نے اسے حالیہ کوشش قرار دیا مگر تاریخ نہیں بتائی۔
امیڈے ڈیٹا چرانے والا میل ویئر ہے جو ڈارک ویب پر تقریباً 500 امریکی ڈالر میں فروخت ہوتا ہے اور اکثر مفت یا پائریٹڈ سافٹ ویئر میں چھپا ہوتا ہے؛ ASD کے مطابق اسے فوٹوشاپ جیسے ایڈیٹنگ پروگرام کے غیر قانونی ورژن میں پایا گیا۔ چرائی گئی ذاتی معلومات اور لاگ ان تفصیلات مجرموں کو بھیجی اور فروخت کی جاتی ہیں۔ گریگوری نے کہا کہ ASD کی کارروائی کے بغیر متاثرین کا ڈیٹا ڈارک ویب پر بیچا جا سکتا تھا، دوسرے طریقوں سے کمایا جا سکتا تھا یا دھوکہ دہی اور شناخت کی چوری جیسے جرائم میں استعمال ہو سکتا تھا۔ اس خبر کو رپورٹ کرنے والی سکیورٹی ویب سائٹ The Hacker News نے نوٹ کیا کہ کنٹرولر کو کاٹ دینے سے ماضی کی چوری ختم نہیں ہوتی، کیونکہ چرائی گئی اسناد مہینوں غیر استعمال شدہ رہ سکتی ہیں، اور ESET نے درجنوں الگ امیڈے بوٹ نیٹس کو ٹریک کیا ہے، اس لیے یہ کئی آپریٹرز میں سے صرف ایک تھا۔
گریگوری نے ایک الگ کیس بھی بیان کیا جس میں ASD کو اطلاع ملی کہ ایک کاروبار سے چرایا گیا 5 ٹیرا بائٹ ڈیٹا فروخت کے لیے رکھا گیا ہے، جبکہ کاروبار کو اپنے ہیک ہونے کا علم نہیں تھا۔ ASD نے نظام میں داخل ہو کر فروخت سے پہلے ڈیٹا تباہ کر دیا؛ ان کے اندازے کے مطابق تباہ شدہ فائلوں میں آسٹریلوی شہریوں کی تقریباً 48 لاکھ چوری شدہ فائلیں اور دیگر مقامات کے متاثرین کی لاکھوں فائلیں شامل تھیں۔ یہ انکشافات اس وقت سامنے آئے جب ASD نے اپنی سالانہ سائبر خطرات کی رپورٹ جاری کی؛ اعداد و شمار ایجنسی کا اپنا بیان ہیں کیونکہ اس کے جارحانہ آپریشنز کا عوامی سطح پر آزادانہ آڈٹ نہیں ہوتا۔



