گوگل ڈیپ مائنڈ نے Genie 4 متعارف کرایا ہے جو Ars Technica کے مطابق اے آئی سے بنی انٹرایکٹو دنیاؤں میں نیٹو آڈیو، انسانی آواز اور زیادہ حقیقت پسند فزکس شامل کرتا ہے؛ رسائی پہلے ڈویلپرز اور AI Ultra صارفین کو ملے گی۔
Ars Technica کے مطابق گوگل ڈیپ مائنڈ نے اپنے Genie ورلڈ ماڈل کا تازہ ترین ورژن Genie 4 پیش کیا ہے، اور ڈیپ مائنڈ کے بلاگ پر اکتوبر 2026 کے لیے Models کے تحت "Genie 4: A new generation of world simulation" کے عنوان سے ایک پوسٹ بھی موجود ہے۔ ورلڈ ماڈل متنی ہدایت سے حقیقی وقت میں فریم بہ فریم ایک انٹرایکٹو ورچوئل ماحول بناتا ہے، جس میں پہلے سے رینڈر شدہ مناظر یا ہاتھ سے پروگرام کیے گئے تعاملات نہیں ہوتے۔ Ars Technica کے مطابق گوگل ایسے ماڈلز کو مصنوعی عمومی ذہانت کی طرف ایک قدم سمجھتا ہے، اور ڈیپ مائنڈ کا کہنا ہے کہ یہ روبوٹس کے لیے لامحدود تربیتی ماحول فراہم کر سکتے ہیں یا تخلیقی شعبوں میں پروٹوٹائپنگ تیز کر سکتے ہیں۔
Ars Technica کے مطابق Genie 4 ایک Gemini ماڈل، Gemini 3.8 Flash، کو رہنما ایجنٹ کے طور پر استعمال کرتا ہے جو اہداف کو توڑتا ہے اور ہر بننے والے فریم کا جائزہ لیتا ہے، اور صارف موسم یا کیمرہ جیسی شرائط چلتے چلتے بدل سکتے ہیں۔ ڈیپ مائنڈ کا کہنا ہے کہ ماڈل ایروڈائنامکس اور ٹکراؤ کو بہتر سنبھالتا ہے اور لوگوں کو زیادہ فطری حرکت کے ساتھ دکھاتا ہے۔ اسے ڈیپ مائنڈ کا پہلا ورلڈ ماڈل بتایا گیا ہے جس میں ماحولیاتی آوازوں اور انسانی آواز سمیت نیٹو آڈیو ہے، اور مکالمے سمیولیشن بدلنے کے ساتھ ڈھلنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ یہ کمپنی کے دعوے ہیں جنہیں آزادانہ طور پر پرکھا نہیں گیا، اور ڈیپ مائنڈ مانتا ہے کہ Genie 4 کی دنیائیں صرف چند منٹ مربوط رہتی ہیں، پھر اپنی ابتدا بھول جاتی ہیں۔
اجرا کی کوئی تاریخ نہیں دی گئی۔ Ars Technica کے مطابق قابلِ اعتماد ٹیسٹرز کا ایک چھوٹا گروپ پہلے ہی ماڈل پر کام کر رہا ہے، ڈویلپرز کو یہ Gemini API اور AI Studio کے ذریعے ملے گا (قیمتیں ابھی غیر اعلانیہ ہیں)، اور عام صارفین کو مرحلہ وار Project Genie کے ذریعے رسائی ملے گی، جس کا آغاز گوگل کے مہنگے ترین AI Ultra پلانز سے ہوگا جو 100 ڈالر ماہانہ سے شروع ہوتے ہیں۔ گوگل بعد میں سستے پلانز تک رسائی بڑھا سکتا ہے، اور ویٹ لسٹ کھلی ہے۔ ڈیپ مائنڈ زور دیتا ہے کہ ورلڈ ماڈلز اب بھی فعال تحقیق کا شعبہ ہیں، اور Genie 3 کبھی محدود Project Genie ویب تجربے سے آگے نہ بڑھ سکا۔



