ہارورڈ اور سمتھسونین کے محققین نے لومینا کی تفصیل دی، جسے وہ اپنی نوعیت کی اب تک کی سب سے بڑی سمولیشن کہتے ہیں؛ اسے ویب اور رومن کے ڈیٹا سے پرکھا جائے گا۔

سینٹر فار ایسٹروفزکس | ہارورڈ اینڈ سمتھسونین کے محققین نے ‘لومینا’ نامی ایک سمولیشن بنائی ہے جو کائنات کے پہلے 2 ارب سال کی تشکیلِ نو کرتی ہے۔ سائنس ڈیلی کے ذریعے شائع ہونے والی سمتھسونین کی ریلیز کے مطابق یہ کام منتھلی نوٹسز آف دی رائل ایسٹرونومیکل سوسائٹی میں شائع ہوا ہے۔ یہ ماڈل بتاتا ہے کہ پہلے ستاروں، کہکشاؤں اور بلیک ہولز کے ابھرنے کے دوران عام مادّے، ڈارک میٹر اور تابکاری نے ایک دوسرے سے کیسے تعامل کیا۔ ٹیم اسے اب تک تیار کی گئی سب سے بڑی کائناتی تابکاری ہائیڈرو ڈائنامکس سمولیشن قرار دیتی ہے۔

محققین کے مطابق لومینا پہلے کے مشابہ منصوبوں سے 100 گنا سے زیادہ بڑے حجم کا احاطہ کرتی ہے، یعنی ہر طرف تقریباً 1.5 ارب نوری سال کا ایک مجازی مکعب، اور پھر بھی انفرادی کہکشاؤں کو الگ پہچان سکتی ہے۔ یہ ہیلیم کی دوبارہ آئنائزیشن کو بھی، جس میں تابکاری ہیلیم ایٹموں سے الیکٹران الگ کرتی ہے، اس کے رونما ہونے اور آس پاس کی گیس پر اثر ڈالنے کے دوران ٹریک کرتی ہے؛ ٹیم کے مطابق اس نوعیت کی کسی سمولیشن نے پہلے ایسا نہیں کیا تھا۔ حساب کتاب میں ٹینیسی کی اوک رج نیشنل لیبارٹری کے سپر کمپیوٹر فرنٹیئر کے 15 ہزار سے زیادہ گرافکس پروسیسنگ یونٹ استعمال ہوئے۔

مقصد نظریات کو ٹھوس پیش گوئیوں میں بدلنا ہے جنہیں جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ اور مجوزہ نینسی گریس رومن اسپیس ٹیلی اسکوپ کے مشاہدات سے پرکھا جا سکے۔ مرکزی مصنف اولیور زیر نے کہا کہ ویب جو کچھ دیکھ رہا ہے اسے سمجھنے کے لیے نظریات کو تفصیلی پیش گوئیوں میں ڈھالنا ضروری ہے۔ محققین کے مطابق اگر حقیقی مشاہدات لومینا کی پیش گوئیوں سے مختلف نکلے تو یہ فرق بتا سکتا ہے کہ موجودہ نظریات میں کہاں بہتری درکار ہے۔ یہ معلومات ٹیم کے اپنے بیان پر مبنی ہیں اور ٹیلی اسکوپ ڈیٹا سے موازنہ ابھی باقی ہے۔