اسرائیل 27 اکتوبر کو حماس کے 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے بعد پہلے قومی انتخابات کرا رہا ہے، جسے بنجمن نیتن یاہو پر ریفرنڈم سمجھا جا رہا ہے۔ ان کے مقابل سابق آرمی چیف گادی آئزنکوٹ ہیں اور ایران جنگ کا سایہ ہے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اسرائیلی منگل 27 اکتوبر 2026 کو حماس کے 7 اکتوبر 2023 کے حملے کے بعد پہلے قومی انتخابات میں ووٹ ڈالیں گے، جسے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی قیادت پر ریفرنڈم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ نئی پارلیمنٹ منتخب ہوگی اور نتیجہ طے کرے گا کہ سلامتی اور ایران کے ساتھ وسیع جنگ کے گرد گھومتی مہم کے بعد نیتن یاہو اقتدار میں رہتے ہیں یا نہیں۔
فرانس 24 کے مطابق نیتن یاہو نے اپنی سکیورٹی ساکھ پر مہم چلائی اور کہا کہ ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی جنگ میں صرف وہی "کام مکمل" کر سکتے ہیں، اور انہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی حمایت ملی۔ ان کے مرکزی حریف، سابق آرمی چیف گادی آئزنکوٹ نے اتوار کو آخری ریلی میں اسرائیلی معاشرے کو "مندمل" کرنے کا وعدہ کیا اور نیتن یاہو پر سیاسی فائدے کے لیے ایرانی خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا الزام لگایا۔ نیتن یاہو نے آئزنکوٹ کو ایران کے معاملے میں "نرم" قرار دیا، جبکہ وزیر دفاع نے پیر کو وزیر اعظم اور فوج کے درمیان اختلاف کی رپورٹس کی تردید کی۔ بی بی سی کے مطابق آئزنکوٹ نے کسی قومی اتحاد حکومت میں شمولیت خارج از امکان قرار دی ہے۔
اسرائیلی بیرون ملک سے ووٹ نہیں دے سکتے، اس لیے ہزاروں تارکین وطن کے واپس آنے کی توقع ہے؛ فرانس 24 کے مطابق "فلائی اینڈ ووٹ" مہم ان کی مدد کر رہی ہے، حالانکہ لیکوڈ کی اسے محدود کرنے کی درخواست ناکام رہی۔ سروے کانٹے کے مقابلے کی پیش گوئی کرتے ہیں۔ نتائج پر بیرون ملک بھی نظر ہے: ایک ہفتے بعد 3 نومبر کو امریکہ میں وسط مدتی انتخابات ہیں، اور بی بی سی کے مطابق دونوں انتخابات مشرق وسطیٰ اور عالمی معیشت پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ ریپورکس نتائج پر نظر رکھے گا۔


