زیزے تاکاہیسا کی «سوکیاکی» 39ویں ٹوکیو بین الاقوامی فلم فیسٹیول کا آغاز کر رہی ہے، جو 1963 کے مقبول گیت اور اس کے تین تخلیق کاروں کی کہانی بیان کرتی ہے، جبکہ فیسٹیول کے ڈائریکٹر نے 40ویں ایڈیشن کے عزائم بتائے۔
39واں ٹوکیو بین الاقوامی فلم فیسٹیول زیزے تاکاہیسا کی «سوکیاکی» سے شروع ہو رہا ہے، جو اس بارے میں ایک ڈرامہ ہے کہ 1963 کا اسی نام کا گیت کیسے عالمی ہٹ بنا اور بعد میں ایسا معیاری گیت بن گیا جس کے غیر ملکی زبانوں میں ورژن ریکارڈ ہوئے، جن میں سے کچھ چارٹس میں بھی سرفہرست رہے۔ ویرائٹی کے مطابق فلم نغمہ نگار ای روکوسوکے، موسیقار ناکامورا ہاچیدائی اور گلوکار ساکاموتو کیو کی کہانی بیان کرتی ہے، جو اپنے ناموں میں موجود اعداد کی وجہ سے جاپان میں «689 تکڑی» کہلاتے تھے۔ فلم محض کامیابی کی سادہ کہانی نہیں؛ وہ ان کے کشیدہ پیشہ ورانہ اور ذاتی تعلقات کو بھی دکھاتی ہے، جن میں ہٹ کے بعد ناکامورا کی شراب نوشی سے جدوجہد شامل ہے، کیونکہ زیزے نے ویرائٹی سے کہا کہ صرف عروج پر مبنی فلم دلچسپ نہیں ہوتی۔
زیزے کے مطابق یہ گیت، جو جاپان میں «اوئے او مویتے آروکو» («میں سر اٹھا کر چلوں گا») کے نام سے مشہور ہے، اپنی خوشگوار دھن سے کہیں زیادہ گہرائی رکھتا ہے۔ ہدایتکار کے بقول ای نے بول 1960 میں جاپان اور امریکہ کے سلامتی معاہدے کے خلاف مظاہروں کو ذہن میں رکھ کر لکھے تھے، تاکہ توثیق نہ روک سکنے کے باوجود مظاہرین سر بلند رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی سامعین الفاظ نہیں سمجھتے تھے مگر گیت کی توانائی ان تک پہنچ گئی۔ انہوں نے فلم کو اس چیز سے بھی جوڑا جسے وہ «شووا بوم» کہتے ہیں، یعنی شووا دور (1926 تا 1989) کی مقبول ثقافت میں نوجوانوں اور ماضی کو یاد کرنے والے بڑی عمر کے ناظرین کی نئی دلچسپی؛ انہوں نے «گوڈزیلا مائنس ون» کے ناظرین کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس کا اگلا حصہ «گوڈزیلا مائنس زیرو» بھی فیسٹیول میں سینٹرپیس کے طور پر دکھایا جا رہا ہے۔
یہ افتتاح ایسے وقت ہوا ہے جب واپس آنے والے فیسٹیول ڈائریکٹر تاکیو ہیسامتسو نے دی ہالی وُڈ رپورٹر کو بتایا کہ انہیں جاپانی سنیما کے پیچھے مضبوط رفتار نظر آتی ہے اور وہ ٹوکیو کو مقامی فلم سازوں کے لیے مضبوط لانچ پیڈ بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سال «نپون سنیما ناؤ» سیکشن کے لیے مقابلے کے انعامات اور نئی ورک ان پروگریس مہم متعارف کرائی گئی، جبکہ اگلے سال 40ویں سالگرہ سے پہلے فیسٹیول کو مزید فنڈز، سپانسرز اور صنعتی تقریبات کی ضرورت ہے۔ دونوں بیانات متعلقہ افراد کے انٹرویوز پر مبنی ہیں، اور فیسٹیول کے عزائم اور گیت کی ابتدا کے بارے میں زیزے کی تعبیر انہی کی اپنی توضیحات ہیں، آزادانہ طور پر ثابت شدہ حقائق نہیں۔



