مصر کی ایک عدالت نے آزاد خبری ادارے مدا مصر کو بند کرنے کا حکم دیا اور بغیر لائسنس ویب سائٹ چلانے پر چیف ایڈیٹر لینا عطاء اللہ پر تیس لاکھ پاؤنڈ جرمانہ عائد کیا؛ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اسے آزادیٔ صحافت پر کاری ضرب قرار دیا۔

بی بی سی نیوز اور الجزیرہ کے مطابق مصر کی ایک عدالت نے 27 اکتوبر کو ملک کے آخری نمایاں آزاد خبری اداروں میں سے ایک مدا مصر کو بند کرنے کا حکم دیا اور بغیر لائسنس ویب سائٹ چلانے کے الزام میں اس کی چیف ایڈیٹر لینا عطاء اللہ پر تیس لاکھ مصری پاؤنڈ (تقریباً 53,500 ڈالر) جرمانہ عائد کیا۔ نیو قاہرہ کی مس ڈیمینر عدالت نے ادارے کے آلات اور ڈیوائسز ضبط کرنے کا بھی حکم دیا۔ فیصلہ مصر کے 2018 کے میڈیا قانون کی شق 105 پر مبنی ہے اور جرمانہ اس الزام کی زیادہ سے زیادہ سزا تھی۔ فیصلے کے بعد عطاء اللہ کو حراست میں لیا گیا اور چند گھنٹوں بعد، جب مدا مصر نے پورا جرمانہ ادا کر دیا، رہا کر دیا گیا۔

مدا مصر اور اس کے وکلا ایسے مقدمے کی تصویر پیش کرتے ہیں جس میں دفاع کو نظرانداز کیا گیا۔ ادارے اور سماعت میں موجود مصری انیشی ایٹو فار پرسنل رائٹس کے سربراہ حسام بہگت کے مطابق جج نے کمرۂ عدالت خالی کروایا، دفاع کی طریقۂ کار سے متعلق درخواستیں مسترد کیں اور عطاء اللہ کے اعتراض کے باوجود ان کی نمائندگی کے لیے ایک وکیل مقرر کر دیا، حالانکہ ان کے آٹھ وکلا موجود تھے۔ رہائی کی کارروائی کے دوران عطاء اللہ کو معلوم ہوا کہ 2024 میں جھوٹی خبریں شائع کرنے اور بغیر لائسنس سائٹ چلانے کے الزام میں انہیں غیر حاضری میں ایک سال قید کی سزا بھی سنائی گئی تھی؛ ان کے وکلا نے اسے چیلنج کیا ہے اور دوبارہ مقدمے کی سماعت 11 نومبر کو مقرر ہے۔ مدا مصر کا کہنا ہے کہ اس نے 2018 اور 2020 میں اعلیٰ میڈیا ریگولیٹری کونسل سے لائسنس مانگا مگر جواب نہ ملا، اور نئی درخواست جون 2023 سے زیر التوا ہے۔ فوری طور پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے تشویش کا اظہار کیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے فیصلے کو آزادیٔ صحافت پر کاری ضرب قرار دیا اور اسے کالعدم کرنے کا مطالبہ کیا، جبکہ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے کہا کہ اگر مصر اپنی سب سے معتبر مدیرات میں سے ایک کا نیوز روم بند کر سکتا ہے تو ملک میں کوئی آزاد صحافی محفوظ نہیں۔ سی پی جے کے مطابق مصر میں اس وقت 25 صحافی جیل میں ہیں، اور الجزیرہ کے مطابق اسی دن اسٹیٹ سکیورٹی پراسیکیوشن نے فیکٹ چیکنگ پلیٹ فارم متصدقش کے چھ صحافیوں کی حراست مزید 15 دن بڑھا دی۔ صحافیوں کی یونین کے سربراہ خالد البلشی نے کہا کہ یونین فیصلے کے خلاف قانونی اپیل کرے گی۔