یورونیوز اور گارڈین کے مطابق نو ممالک میں سپر مارکیٹس کے ریفریجریشن کنٹرولرز پر دنوں کی ٹوہ کے بعد 2 اور 3 نومبر کو حملہ ہوا؛ ایک سکیورٹی فرم روس کی طرف اشارہ کرتی ہے مگر کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی اور تصدیق بھی نہیں ہوئی۔

یورونیوز کے مطابق نو یورپی ممالک کے سپر مارکیٹس کے ریفریجریشن سسٹمز اور فرانس کے کئی بلڈ بینکوں پر 2 اور 3 نومبر کو حملے ہوئے۔ ہیکروں نے کمزور سکیورٹی اور ڈین فوس کے AK-SM ریفریجریشن سسٹم مینیجر کی خامیوں سے فائدہ اٹھا کر فریجوں اور فریزروں کو ڈیفروسٹ موڈ پر ڈال دیا، بعض صورتوں میں درجہ حرارت 50 ڈگری سیلسیئس تک پہنچ گیا اور کئی دکانداروں کو خراب مال پھینکنا پڑا۔ گارڈین لندن کے ایک پھل اور سبزی کے تھوک فروش کا ذکر کرتا ہے جس نے اپنے یونٹس پر ڈیفروسٹ کی بتیاں جلتی دیکھیں اور انہیں انٹرنیٹ سے جوڑنے والی تار کھینچ دی؛ بیلجیم، ایسٹونیا، آئرلینڈ، فن لینڈ، لکسمبرگ، نیدرلینڈز اور سویڈن کے دکانداروں نے بھی ایسی ہی خرابیاں بتائیں۔

ذمہ دار کون ہے، یہ سوال کھلا ہے۔ سکیورٹی فرم لوپوویس کا کہنا ہے کہ اس کے ہنی پاٹس، یعنی اصل آلات کی نقل کرنے والے جال نما سسٹمز، نے 20 سے 30 اکتوبر کے درمیان ڈین فوس کنٹرولر کے پرزوں کو نشانہ بنانے والے 91 مختلف عناصر کی 276 سے زیادہ کوششیں ریکارڈ کیں جو 26 اکتوبر کو عروج پر تھیں، اور کچھ سرگرمی اس 'بلٹ پروف' ہوسٹنگ تک گئی جو پہلے روسی گروپ استعمال کر چکے ہیں۔ اس کے سی ای او زیویئر بیلیکنز کا کہنا ہے کہ مربوط کارروائی کے انداز میں کوئی ریاستی عنصر فٹ بیٹھتا ہے، مگر وہ زور دیتے ہیں کہ کمپنی کو یقین نہیں کہ یہ روسی تھا۔ دی گروسر کے ٹیکنالوجی ایڈیٹر جارج نوٹ خبردار کرتے ہیں کہ نہ تاوان کا مطالبہ آیا نہ ذمہ داری کا دعویٰ، اور مجرم ریاستی حمایت یافتہ گروپ سے لے کر شوقیہ افراد تک کوئی بھی ہو سکتا ہے؛ قومی ادارے اصطلاح پر بھی متفق نہیں: بیلجیم، لکسمبرگ، اٹلی، پرتگال اور ایسٹونیا اسے سائبر حملہ کہتے ہیں، سویڈن اور آئرلینڈ سائبر واقعہ، اور یورپی یونین کی ایجنسی ENISA نے اسے صاف طور پر حملہ نہیں کہا۔

ماہرین جس بات پر متفق ہیں وہ یہ ہے کہ کمزوریاں کتنی بنیادی تھیں۔ رپورٹس کے مطابق حملہ آوروں کو کھلے انٹرنیٹ پر لاگ اِن صفحات مل گئے اور انہوں نے پہلے سے ٹھیک کی جا چکی خامیاں اور کمزور پاس ورڈ استعمال کیے؛ برطانیہ کا نیشنل سائبر سکیورٹی سینٹر کہتا ہے کہ انہیں مصنوعی ذہانت کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ ڈیفالٹ پاس ورڈ مینوئلز میں شائع تھے۔ ڈین فوس نے گارڈین کو بتایا کہ متاثرہ آلات میں سے زیادہ تر پرانے تھے اور انہیں سکیورٹی اپ ڈیٹس نہیں ملتی تھیں، اور لوپوویس کا مؤقف ہے کہ ایسے کنٹرولرز کو براہ راست انٹرنیٹ پر رکھنے کے بجائے VPN کے پیچھے رکھنے سے خطرے کا بڑا حصہ ختم ہو جاتا۔ NCSC کے سربراہ رچرڈ ہورن نے خبردار کیا ہے کہ ہم واقعات کی لہر کے 'دامن' میں ہیں، جبکہ ادارے کے پہلے سربراہ سیاران مارٹن اسے بری لہر مگر بے مثال نہیں قرار دیتے اور 2017 کے NotPetya اور WannaCry کا حوالہ دیتے ہیں۔