یورونیوز کے مطابق اوسلو میں فیورڈ اوسلو کا پانچواں ایڈیشن جاری ہے، جس میں عمارتوں، عوامی مقامات اور نوبل پیس سینٹر پر بین الاقوامی روشنی کے فن پارے امن کے معنی پر غور کرتے ہیں۔

یورونیوز کے مطابق اوسلو میں فیورڈ اوسلو کا پانچواں ایڈیشن منعقد ہو رہا ہے، جو کھلی فضا میں روشنی کے فن کا ایک بین الاقوامی میلہ ہے۔ کئی ممالک کے فنکاروں نے ایسے فن پارے تیار کیے ہیں جو ناروے کے دارالحکومت کی عمارتوں اور عوامی مقامات کو روشن کرتے ہیں، جن میں نوبل پیس سینٹر بھی شامل ہے۔

اس سال کا ایڈیشن امن کے معنی کے لیے وقف ہے اور یورپی یونین کے مالی تعاون سے چلنے والے ثقافتی منصوبے IMAGINE PEACE کا حصہ ہے۔ یورونیوز کے مطابق پروگرام میں جنگ، استقامت، آزادی اور باہمی بقا جیسے موضوعات شامل ہیں۔ منتظم اور لائٹ آرٹسٹ اناستاسیا اساکسن کہتی ہیں کہ نوبل امن انعام کے شہر اوسلو میں میلے کا انعقاد موضوع کو خاص اہمیت دیتا ہے، اور یہ امن کے بارے میں عالمی سطح کے ساتھ ساتھ ذاتی سطح پر بھی ہے۔ کروشیائی فنکار مارکو بولکووچ کے مطابق ان کی ٹیم نے چھ ممالک کے لوگوں سے امن کو ایک لفظ میں بیان کرنے کو کہا، اور جوابات اکثر جنگ کے بارے میں نہیں تھے بلکہ باپ، دوستی، ماں اور دوست جیسے الفاظ تھے۔

یورونیوز نے زائرین سے پوچھا کہ کیا فن امن کے بارے میں لوگوں کی سوچ بدل سکتا ہے۔ ناروے کے زائر الرچ لاؤریڈسن نے کہا کہ فن اکیلا جنگ نہیں روک سکتا لیکن زیادہ لوگوں میں اسے روکنے کی خواہش پیدا کر سکتا ہے، جبکہ کینیا کی زائر فیتھ اِمانی نے امن کو سب سے بڑھ کر آزادی قرار دیا: جینے، دوسروں کے ساتھ رہنے اور دنیا میں آزادانہ گھومنے کی آزادی۔ اس مضمون کے لیے یورونیوز کی رپورٹ ہی واحد جانچا گیا ذریعہ ہے، اور اس میں میلے کی تاریخیں یا شریک فنکاروں کی مکمل فہرست نہیں دی گئی۔