امریکی استغاثہ کا کہنا ہے کہ تین افراد نے AI سے بدلی ہوئی ایگزیکٹوز اور وکلا کی آوازوں اور تصاویر کے ذریعے ملازمین سے 129 ملین ڈالر سے زیادہ منتقل کروائے؛ ملزمان پر الزام ہے، سزا ثابت نہیں ہوئی۔

نیویارک کے سدرن ڈسٹرکٹ کے امریکی استغاثہ نے 5 نومبر 2026 کو اعلان کیا کہ تین غیر ملکی شہریوں، جیکب سوال، شیرون حزان اور گائے شیٹرٹ، کے خلاف فردِ جرم جاری کی گئی ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے دنیا بھر کی کمپنیوں کو دھوکا دینے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کی۔ محکمۂ انصاف کے مطابق ان افراد نے مبینہ طور پر کمپنی ایگزیکٹوز اور بڑی بین الاقوامی لا فرموں کے وکلا کی آوازیں اور تصاویر بدل کر ملازمین کو فوری ادائیگیاں بھیجنے پر آمادہ کیا۔ سوال اور حزان کو گرمیوں میں اسپین میں اور شیٹرٹ کو ستمبر میں برطانیہ میں گرفتار کیا گیا۔ مبینہ کارروائیاں 2024 سے 2026 تک جاری رہیں، اور ان پر وائر فراڈ کی سازش، منی لانڈرنگ کی سازش اور سنگین شناختی چوری جیسے الزامات ہیں۔

فردِ جرم کی خبر دینے والے گارڈین نے دو مرحلوں پر مشتمل طریقۂ کار بیان کیا ہے۔ پہلے مشتبہ افراد نے مبینہ طور پر کمپنی کے کسی ایگزیکٹو کا روپ دھار کر ملازم سے کہا کہ ایک حساس مالی لین دین میں مدد درکار ہے۔ پھر ملازم کو ایک بڑی لا فرم کے مبینہ وکلا سے رابطہ کرنے کو کہا گیا، جن کی بھی نقالی کی گئی تھی، اور انہوں نے بڑی رقوم بھیجنے کی ہدایت کی۔ استغاثہ کے مطابق رقم امریکہ، اسپین، پرتگال، یونان، متحدہ عرب امارات، سنگاپور، آسٹریا، سلوواکیہ اور چین سمیت کئی ممالک کے کھاتوں میں گئی، پھر ماخذ چھپانے کے لیے کرپٹو کرنسی میں بدلی گئی اور مبینہ ساتھیوں میں بانٹی گئی۔ محکمۂ انصاف کی سرخی میں کل نقصان 129 ملین ڈالر بتایا گیا ہے جبکہ متن میں 100 ملین ڈالر سے زیادہ کا ذکر ہے۔

مذکورہ متاثرین سے ظاہر ہوتا ہے کہ مبینہ منصوبہ کتنا وسیع تھا: میسوری کے ایک ہسپتال نظام سے تقریباً 5 ملین ڈالر، رہوڈ آئی لینڈ کے ایک بینک سے 2.7 ملین، کیلیفورنیا کے ایک ہسپتال نظام سے تقریباً 3 ملین، میساچوسٹس کے ایک میوچل فنڈ سے 4.6 ملین سے زیادہ، فلوریڈا کی ایک پالتو جانوروں کی خوراک کمپنی سے تقریباً 5 ملین اور برطانیہ کی ایک ٹیکنالوجی کمپنی سے 11 ملین سے زیادہ۔ امریکی اٹارنی جیمی میکڈونلڈ نے کہا کہ AI میں بڑی صلاحیت ہے مگر کچھ لوگ اسے مجرمانہ مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہیں گے، جبکہ ایف بی آئی نیویارک کے جیمز سی۔ بارناکل جونیئر نے کہا کہ مجرم ابھرتی ٹیکنالوجیز کو ہتھیار بناتے رہتے ہیں۔ ہر فردِ جرم کی طرح یہ الزامات ہیں؛ ملزمان جرم ثابت ہونے تک بے گناہ سمجھے جاتے ہیں، اور یہ کیس مالیاتی ٹیموں کو یاد دلاتا ہے کہ غیر معمولی ادائیگی کی درخواستوں کی تصدیق الگ اور قابلِ اعتماد ذریعے سے کریں۔