فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر سٹب اور ناروے کے وزیر اعظم یوناس گاہر سٹورے نے 27 اکتوبر کو پوتن سے بات کی، جو ایک سال سے زائد عرصے میں یورپی رہنماؤں کا پہلا براہِ راست رابطہ ہے؛ ڈنمارک کی وزیر اعظم نے شکوک ظاہر کیے۔
فن لینڈ اور ناروے کے رہنماؤں نے 27 اکتوبر کو ہیلسنکی سے روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ 90 منٹ کی مشترکہ ٹیلیفونک گفتگو کی، جو ماسکو اور یورپی رہنماؤں کے درمیان براہِ راست رابطے کی نادر مثال ہے۔ بی بی سی کے مطابق سٹب اور سٹورے نے کہا کہ مقصد یوکرین جنگ ختم کرنے میں مدد کے لیے مستقبل کے مذاکرات پر بات کرنا تھا، اور وہ پورے یورپ کی نہیں بلکہ اپنے اپنے ممالک کی نمائندگی کر رہے تھے۔ سٹب نے گفتگو کو واضح اور بامعنی قرار دیا اور کہا کہ جنگ ختم کرنے کے لیے براہِ راست بات چیت ضروری ہے، جبکہ سٹورے نے کہا کہ اس سے نقطۂ نظر میں بڑے اختلافات سامنے آئے۔ بی بی سی کے مطابق جولائی 2025 میں ایمانویل میکرون کی بات چیت کے بعد یہ یورپی رہنماؤں کا پوتن سے پہلا رابطہ ہے۔
بی بی سی کے بیان کردہ کریملن کے موقف کے مطابق پوتن نے دونوں رہنماؤں سے کہا کہ منصفانہ اور پائیدار امن تبھی ممکن ہے جب روس کے مفادات کو مدنظر رکھا جائے، اور کہا کہ یورپی یونین اور نیٹو کی محاذ آرائی والی پالیسیاں جنگ کو طول دے رہی ہیں۔ کریملن کے مطابق تینوں براہِ راست فون رابطہ جاری رکھنے پر متفق ہوئے۔ یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے بعد میں دونوں سے بات کی اور ان کی فعال حمایت کا شکریہ ادا کیا؛ الجزیرہ کے مطابق انہوں نے کہا کہ دونوں نے پوتن کو بتایا کہ یوکرین کی توانائی تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے پر حملوں میں کمی کے لیے حقیقی اقدامات ضروری ہیں۔ یہ گفتگو یوکرین سے مشاورت کے ساتھ ہوئی اور 20 اکتوبر کو اوسلو میں زیلنسکی اور امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے بعد ہوئی، جس کے بعد وٹکوف نے سینٹ پیٹرزبرگ میں پوتن سے ملاقات کی۔
اتحادیوں کا ردِعمل ملا جلا رہا۔ ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن نے نشریاتی ادارے ڈی آر کو بتایا کہ وہ بہت شکوک رکھتی ہیں اور یہ گفتگو باقی یورپ کے ساتھ مربوط نہیں تھی، اگرچہ سٹورے نے کہا کہ اتحادیوں کو پہلے سے آگاہ کیا گیا تھا؛ پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک نے کہا کہ سٹب نے انہیں بتایا کہ آنے والے مذاکرات پر یورپ کا موقف محتاط طور پر پُرامید ہے۔ یہ رابطہ ایسے وقت ہوا جب کیف اور ماسکو نومبر کے آغاز میں ابوظہبی میں امریکی ثالثی میں تکنیکی ملاقاتوں کی تیاری کر رہے ہیں، اور رات بھر کیف پر روسی حملے کے بعد، جس میں یوکرینی حکام کے مطابق 16 بیلسٹک میزائل، 280 سے زائد ڈرون اور ساؤتھ برج پر حملہ شامل تھا۔ یہ واضح نہیں کہ نیا رابطہ ابوظہبی مذاکرات پر اثر ڈالے گا یا نہیں؛ اب تک کی تفصیلات متعلقہ حکومتوں سے آئی ہیں۔



