تقریباً تمام ووٹوں کی گنتی پر نیتن یاہو کا بلاک 53 اور آئزن کوٹ کا 48 نشستوں پر ہے؛ ایک غمزدہ باپ نے رائٹرز کو بتایا کہ وہ 7 اکتوبر کی سرکاری تحقیقات کا مطالبہ جاری رکھے گا۔
بی بی سی کے مطابق اسرائیل کے عام انتخابات کے جزوی نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی لیکود پارٹی اور اس کے انتہائی دائیں بازو اور الٹرا آرتھوڈاکس اتحادی 120 رکنی کنیسٹ میں 53 نشستوں کی جانب بڑھ رہے ہیں، جو سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ کی پارٹی یشار اور اس کے تین یہودی اپوزیشن شراکت داروں کے لیے متوقع 48 نشستوں سے آگے ہے، مگر اکثریت سے کم ہے۔ عرب قیادت والی جماعتیں بے مثال 19 نشستوں کی طرف بڑھ رہی ہیں اور فیصلہ کن بن سکتی ہیں، اگرچہ تقریباً تمام یہودی جماعتوں نے ان کے ساتھ کام نہ کرنے کا عہد کیا ہے۔ این پی آر نے بھی بتایا کہ تقریباً 90 فیصد ووٹوں کی گنتی کے بعد کوئی واضح فاتح سامنے نہیں آیا۔
جمعرات کو حکام نے فوجیوں، سفارت کاروں اور ہسپتال کے مریضوں کے 4 لاکھ 80 ہزار تک غیر حاضر ووٹوں کی گنتی شروع کی، جو متناسب نظام میں نشستوں کی حتمی تقسیم کو بدل سکتے ہیں۔ صدر اسحاق ہرزوگ کو اگلے ہفتے سرکاری نتائج کی توقع ہے، جس کے بعد وہ تمام دھڑوں سے مشاورت کر کے حکومت بنانے کی کوشش کرنے والے رہنما کو منتخب کریں گے؛ بی بی سی کے مطابق اس میں ہفتے لگ سکتے ہیں اور ناکامی کی صورت میں نئے انتخابات ہو سکتے ہیں۔ ٹرن آؤٹ 77.7 فیصد رہا، جو دو دہائیوں سے زیادہ میں سب سے بلند ہے۔
رائٹرز کی جمعرات کو جاری کردہ ویڈیو میں ایک اسرائیلی باپ نے، جس نے 7 اکتوبر 2023 کے حماس کی قیادت میں حملے میں اپنی بیٹی کھو دی، کہا کہ وہ ابتدائی نتائج سے مایوس ہے اور حملے اور اس سے پہلے کے واقعات کی سرکاری تحقیقاتی کمیشن کے لیے لڑائی جاری رکھے گا۔ یہ فوٹیج انٹرویو پر مبنی رپورٹ ہے اور گنتی کو نہیں دکھاتی۔ بی بی سی کے مطابق 7 اکتوبر کی سکیورٹی ناکامیوں کا احتساب مہم کے بنیادی مسائل میں سے ایک تھا؛ باپ کا یہ خدشہ کہ نتیجہ تحقیقات کو روک سکتا ہے اس کی اپنی رائے ہے، طے شدہ حقیقت نہیں۔


