صدر ایمانوئل میکرون نے 26 اکتوبر کو مارسے میں کہا کہ کئی شہروں میں پرتشدد ہونے والے ہفتوں کے مظاہروں کے بعد حکومت ’سخت اقدامات‘ کا اعلان کرے گی، تاہم انہوں نے طلبہ کے مطالبات کو ’جائز‘ تسلیم کیا۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے پیر 26 اکتوبر کو کہا کہ ان کی حکومت ان ہفتوں طویل مظاہروں کے جواب میں ’سخت اقدامات‘ کا اعلان کرے گی جنہوں نے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور جن میں سے کچھ کئی بڑے شہروں میں تشدد اور لوٹ مار میں بدل گئے۔ مارسے میں، جہاں ایلیزے کے مطابق وہ ان سکیورٹی فورسز کا شکریہ ادا کرنے گئے تھے جنہوں نے 17 اکتوبر کو مظاہرین کے مختصر وقت کے لیے سٹی ہال میں گھس آنے کے بعد امن بحال کرنے میں مدد کی، میکرون نے اعتراف کیا کہ حکام کو مظاہروں کی وسعت کا ’بالکل اندازہ نہیں تھا‘۔ بی بی سی نے پولیس سے جھڑپوں، پیرس میں لوٹی گئی دکانوں اور لیموژ کے سٹی ہال کو پہنچنے والے شدید نقصان کی رپورٹ دی ہے۔

صدر کے مطابق ہفتہ 24 اکتوبر کو ملک گیر مظاہروں کے دوران کرفیو نے نسبتاً امن برقرار رکھنے میں مدد دی؛ ڈی ڈبلیو کے بیان کردہ اعداد و شمار کے مطابق 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے اور 1,435 گرفتاریاں ہوئیں۔ بی بی سی نے الگ سے 1,300 سے زائد گرفتاریوں کی اطلاع دی۔ وزیر داخلہ لوراں نونیز نے کہا کہ نیس اور مونپیلیے جیسے شہروں میں منظم قوم پرست گروہوں نے بائیں بازو کے کارکنوں کا سامنا کیا، جبکہ میکرون نے سوشل میڈیا کو لوگوں کو لوٹ مار اور حملوں کی جگہوں تک لانے کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے اسے ’بدترین جذبات کو متحرک کرنے کے آلات‘ قرار دیا۔

میکرون نے کہا کہ انہوں نے وزیر اعظم سیباستیان لیکورنو کی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ ’اس سماجی تحریک کی جڑ میں موجود جائز مطالبات‘ کا جواب دے، اور ہائی اسکول و یونیورسٹی طلبہ کے نمائندوں سے مشاورت کے بعد تعلیم اور یونیورسٹی داخلوں سے متعلق ’ٹھوس اور بڑے‘ اقدامات کا وعدہ کیا۔ حکومتی ترجمان مود بریژوں نے کہا کہ مکالمے کی پیشگی شرط امن کی بحالی ہے۔ ہفتہ 31 اکتوبر کو متوقع نئے مظاہروں کو میکرون نے ’خطرناک‘ قرار دیا اور کہا کہ راستے شہروں کے مراکز سے باہر رکھے جائیں گے؛ نونیز کے مطابق ہالووین کی شام ایک بار پھر ’پیچیدہ‘ ہو سکتی ہے۔ ٹھوس اقدامات کا اعلان ابھی نہیں کیا گیا۔