نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن کی تحقیق میں 4,900 سے زیادہ سوزشی آنتوں کی بیماری کے مریضوں میں انٹرلیوکن-10 کے خلاف خود مدافعتی اینٹی باڈیز کو دیرینہ جینیاتی خطرے کے ویریئنٹ سے جوڑا گیا ہے، جو ممکنہ خون کے ٹیسٹ اور ہدفی علاج کی طرف اشارہ ہے۔
آکسفورڈ یونیورسٹی، نیو کاسل یونیورسٹی اور کیمبرج یونیورسٹی ہسپتالز این ایچ ایس فاؤنڈیشن ٹرسٹ کے محققین نے نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں بتایا ہے کہ سوزشی آنتوں کی بیماری (آئی بی ڈی) کے کچھ مریض ایسی اینٹی باڈیز بناتے ہیں جو انٹرلیوکن-10 (آئی ایل-10) کو روکتی ہیں، یہ پروٹین سوزش کو قابو میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ ٹیم نے کرون بیماری اور السرییٹو کولائٹس سمیت آئی بی ڈی کے 4,900 سے زیادہ افراد کا معائنہ کیا اور تقریباً 3.5 فیصد مریضوں میں ان بے اثر کرنے والی اینٹی باڈیز کی بلند سطح پائی، دونوں بیماریوں میں، جبکہ صحت مند افراد میں نہیں۔ برطانیہ میں پھیلاؤ کی بنیاد پر ان کا اندازہ ہے کہ ملک میں 15,000 سے 20,000 مریض انہیں رکھتے ہوں گے۔
تحقیق ان اینٹی باڈیز کو HLA-DRB1*01:03 نامی جینیاتی ویریئنٹ سے بھی جوڑتی ہے، جسے آکسفورڈ کے سائنس دانوں نے 30 سال پہلے آئی بی ڈی کی شدید شکل سے جوڑا تھا مگر اس کا طریقۂ کار معلوم نہ تھا۔ اس ویریئنٹ کے حامل افراد میں آئی ایل-10 کے خلاف اینٹی باڈیز بننے کا امکان نمایاں طور پر زیادہ تھا، جو محققین کے مطابق طریقۂ کار کی وضاحت میں مدد دیتا ہے۔ نیو کاسل یونیورسٹی کی صوفی ہیمبلٹن نے کہا کہ یہ کام پچھلے نتائج پر مبنی ہے کہ آئی ایل-10 یا اس کے ریسیپٹر میں موروثی نقائص چھوٹے بچوں میں شدید آئی بی ڈی پیدا کرتے ہیں، اور آئی ایل-10 کے خلاف اینٹی باڈیز نے کولائٹس والی دو بچیوں میں یہی اثر نقل کرتے دیکھا گیا تھا۔
محققین کا کہنا ہے کہ نتائج بتاتے ہیں کہ آئی بی ڈی میں حیاتیاتی طور پر مختلف کئی کیفیات شامل ہیں اور یہ ایسے خون کے ٹیسٹ کی بنیاد بن سکتے ہیں جو ان اینٹی باڈیز سے جڑے مریضوں کی شناخت کرے، نیز ایسے علاج کی جو اینٹی باڈیز یا انہیں بنانے والے خلیوں کو ہدف بنائیں۔ یہ امکانات ہیں، مستند علاج نہیں؛ رپورٹ شدہ نتائج ابھی یہ ثابت نہیں کرتے کہ ایسا کوئی علاج کارگر ہے۔ آکسفورڈ کے سینئر مصنف ہولم اُہلِگ نے کہا کہ تحقیق نئے علاج کا دروازہ کھولتی ہے، جبکہ کیمبرج کے رائنر ڈوفنگر نے کہا کہ ابتدائی شناخت مہنگے مسلسل علاج پر انحصار کم کر سکتی ہے۔ یہ کام آکسفورڈ، کیمبرج اور نیو کاسل کے این آئی ایچ آر بایومیڈیکل ریسرچ سینٹرز کے ذریعے فنڈ کیا گیا۔


