ساؤتھ وارک کراؤن کورٹ کی جیوری نے انتہائی دائیں بازو کے کارکن کو 2024 کے ساؤتھ پورٹ قتل سے متعلق رپورٹنگ پر دو صحافیوں کو ہراساں کرنے کا مجرم قرار دیا؛ سزا دسمبر میں سنائی جائے گی۔

ساؤتھ وارک کراؤن کورٹ کی جیوری نے بدھ کو انتہائی دائیں بازو کے کارکن ٹومی رابنسن، جن کا اصل نام سٹیفن یاکسلی لینن ہے، کو دو صحافیوں کو اس حد تک ہراساں کرنے کا مجرم قرار دیا کہ انہیں تشدد کا خوف لاحق ہو گیا۔ دی گارڈین کے مطابق فیصلہ ایک ہفتے کے مقدمے کے بعد آیا، اور نیویارک ٹائمز کے مطابق سزا دسمبر میں سنائی جائے گی۔

عدالت کو بتایا گیا کہ ڈیلی میل کے دونوں رپورٹر اور ان کے اہلِ خانہ اس چیز کے بعد اپنے گھر چھوڑ گئے جسے مقدمے میں "غنڈہ گردی پر مبنی دھمکانے والے ہتھکنڈے" کہا گیا۔ رابنسن نے آن لائن ایک صحافی کے خاندان کی تصاویر شیئر کی تھیں اور کہا تھا کہ انہوں نے 2024 کے ساؤتھ پورٹ قتل پر مضمون لکھنے والے تینوں رپورٹرز کو "ٹیگ کر کے تھیلے میں ڈال دیا" ہے۔ الزامات ان تین میں سے صرف دو صحافیوں سے متعلق تھے۔

اس مقدمے کو اس آزمائش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ قانون صحافیوں کو نجی زندگی تک پہنچنے والی منظم آن لائن مہمات سے کتنا تحفظ دیتا ہے۔ سزا ابھی طے نہیں ہوئی اور تفصیلات دسمبر میں عدالت کے دوبارہ بیٹھنے پر ہی معلوم ہوں گی۔