شکست خوردہ برازیلی امیدوار بدھ کو ارجنٹینا کے راستے خاندان سمیت فلوریڈا پہنچے اور ایک خط جاری کیا جس میں بغیر ثبوت دھاندلی کے الزامات دہرائے گئے، جنہیں برازیل کے ادارے مسترد کرتے ہیں۔

برازیل کے سینیٹر فلاویو بولسونارو بدھ کی صبح اپنی اہلیہ اور دو بیٹیوں کے ساتھ میامی کے اوپا-لوکا ایگزیکٹو ایئرپورٹ پر اترے، صدارتی انتخاب کے دوسرے مرحلے میں لوئز اناسیو لولا دا سلوا سے ہارنے کے تین دن بعد۔ لولا کو تقریباً 51.8 فیصد اور بولسونارو کو 48.2 فیصد ووٹ ملے۔ ارجنٹینا کے امیگریشن حکام نے بتایا کہ خاندان منگل کی رات گئے زمینی راستے سے ارجنٹینا میں داخل ہوا اور نجی جیٹ کے ذریعے ایکواڈور کے شہر گواکیل روانہ ہوا، پھر فلوریڈا پہنچا؛ گارڈین اور بی بی سی نے پرواز کے ٹریکنگ ڈیٹا اور عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ خاندان مقامی وقت کے مطابق تقریباً صبح ساڑھے نو بجے طیارے سے اترا۔ انہوں نے صحافیوں سے کوئی بات نہیں کی اور چھتریوں کی آڑ میں پولیس کی حفاظت والی گاڑی میں روانہ ہو گئے۔

پہنچنے کے چند گھنٹے بعد بولسونارو نے ایک خط جاری کیا جس میں انہوں نے خود کو سیاسی انتقام کا شکار قرار دیا اور بغیر کوئی ثبوت دیے انتخابی دھاندلی کے الزامات دہرائے۔ گارڈین کے مطابق خط کے ابتدائی ورژن میں انہیں برازیل کا 'حقیقی صدر' کہا گیا تھا، جسے حذف کر کے ایسا ورژن لگایا گیا جس میں وہ خود کو 'برازیل کا رہنما' کہتے ہیں۔ برازیل کی انتخابی عدالت، سپریم کورٹ اور دونوں ایوانوں کے سربراہان نے دھاندلی کے دعوے مسترد کر دیے ہیں، اور ان کی اپنی لبرل پارٹی نے نتیجہ تسلیم کیا ہے۔ خط میں انہوں نے ارجنٹینا کے صدر خاویر میلی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا؛ ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا کہ امریکہ نے انہیں داخلے کی اجازت دی ہے مگر وہ مداخلت نہیں کریں گے، اور اسے 'بہت عجیب انتخاب' قرار دیا۔

یہ سفر سپریم کورٹ کے اس حکم کے بعد ہوا جو ووٹنگ کے بعد جج الیگزینڈرے دی موریس نے منی لانڈرنگ اور کرنسی چوری کی تحقیقات میں بولسونارو سے پاسپورٹ جمع کرانے کے لیے جاری کیا تھا؛ مہلت ختم ہونے پر برازیلی حکام نے دستاویزات منسوخ کر دیں، اور امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ وہ انہیں اور ان کے خاندان کو ویزے جاری کرے گا۔ لولا نے اس روانگی کو 'شرمناک' کہا، جبکہ بولسونارو کسی بے ضابطگی سے انکار کرتے ہیں۔ اس مضمون کے ساتھ لگی ویڈیو میامی ایئرپورٹ سے ان کی آمد پر ڈی ڈبلیو نیوز کی رپورٹ ہے؛ یہ واقعے کی خبری کوریج ہے، مندرجہ بالا تمام دعوؤں کی آزاد تصدیق نہیں، جو بی بی سی، گارڈین اور الجزیرہ کی رپورٹنگ پر مبنی ہیں۔