دی گارڈین کے مطابق آسٹریلیا کی مینیندی جھیلوں کا مجموعی ذخیرہ 2021 کے بعد پہلی بار 480 گیگا لیٹر سے نیچے چلا گیا ہے، جس سے عارضی پابندیاں نافذ ہوئیں اور گرمیوں میں مچھلیوں کی ہلاکت کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق نیو ساؤتھ ویلز کے مغرب میں مینیندی جھیلوں میں پانی کی سطح پانچ سال کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ اس مہینے کے آغاز میں مجموعی ذخیرہ 2021 کے بعد پہلی بار 480 گیگا لیٹر سے نیچے گیا اور بالائی جھیلوں میں مقدار 250 گیگا لیٹر سے کم ہو گئی، جو شمالی مرے ڈارلنگ بیسن کے کچھ حصوں میں ریاست کی عارضی آبی پابندیاں نافذ کرنے کی حد ہے۔ یہ پابندیاں بعض آبپاشی کرنے والوں کی رسائی محدود کرتی ہیں اور کیچمنٹ میں گزشتہ 12 مہینوں کی کم بارش کے بعد انسانی ضروریات اور ماحول کے لیے پانی بچانے کے لیے ہیں۔

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر ڈارلنگ-باکا دریا میں بہاؤ بہتر نہ ہوا تو اس گرمی میں مچھلیوں کی ہلاکت کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ مینیندی میں 2018، 2019 اور 2023 میں تباہ کن ہلاکتیں ہوئیں جن میں دریا کے حصوں پر لاکھوں مردہ مچھلیاں بہہ آئیں۔ آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی اور وینٹ ورتھ گروپ آف کنسرنڈ سائنٹسٹس کے پروفیسر جیمی پٹاک نے کہا کہ سرکاری حکام ایک حد تک یقین کے ساتھ پیش گوئی کر رہے ہیں کہ دریا میں مزید پانی نہ آیا تو مچھلیاں مریں گی؛ انہوں نے بڑی بارش کی ضرورت بتائی اور کہا کہ ریاستی حکومتیں آبپاشی والوں کو پہلے سیلابی ریلے کو پمپ کرنے سے روکیں۔ مقامی رہائشی گراہم میک کرب نے کہا کہ کوئنز لینڈ سے آنے والے چھوٹے بہاؤ کچھ امید دیتے ہیں، مگر مزید پانی کے بغیر جنوری یا فروری میں خطرہ بہت زیادہ ہوگا، جبکہ نسبتاً ٹھنڈی گرمی اسے کم کرے گی۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 2023 کے ریاستی انتخابات کے بعد شمالی بیسن کنیکٹیویٹی پروگرام کے تحت بنائے گئے ماہرین کے پینل نے خشک ادوار میں بالائی علاقوں میں حد سے زیادہ نکاسی محدود کرنے کی سفارش کی اور دو سال پہلے حتمی رپورٹ دی، لیکن ریاستی حکومت نے اب تک اس پر عمل نہیں کیا۔ میک کرب نے کہا کہ مچھلیوں کی ہلاکتوں کے بعد سے اداروں نے پانی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے کوئی پالیسی تبدیلی نہیں کی۔ دی گارڈین نے بتایا کہ اس نے این ایس ڈبلیو کی وزیرِ آب روز جیکسن سے تبصرہ مانگا ہے۔ یہاں بیان کردہ معلومات صرف اسی رپورٹ پر مبنی ہیں اور نمایاں بہاؤ آیا تو حالات بدل سکتے ہیں۔