محققین نے سائنس جریدے میں بتایا ہے کہ 2022 میں صحارا میں ملنے والا شہابیہ تیغازا 001 مریخ کا ایک ٹکڑا ہے جو 4.1 ارب سال سے بھی پہلے بنا تھا اور معلوم قدیم ترین مریخی شہابیوں میں شامل ہے۔

ناسا کے مطابق، 2022 میں مالی کے تیغازا نامی نمکین میدان میں صحارا کے صحرا سے ملنے والا تقریباً 800 گرام (قریباً 2 پاؤنڈ) وزنی گلابی رنگ کا شہابیہ مریخ کا ایک ٹکڑا نکلا ہے جو 4.1 ارب سال سے بھی پہلے بنا تھا۔ اسے تیغازا 001 کا نام دیا گیا ہے اور یہ سرخ سیارے سے آنے والے تقریباً 435 معلوم شہابیوں میں سے ایک ہے۔ جمعرات کو سائنس جریدے میں شائع ہونے والا مقالہ اس کی پہلی تفصیلی شناخت پیش کرتا ہے، اور ناسا اسے زمین پر ملنے والے تین قدیم ترین مریخی شہابیوں میں شمار کرتا ہے، جن میں ALH84001 اور تقریباً 2.1 ارب سال پرانے ٹکڑے بلیک بیوٹی بھی شامل ہیں۔

نیو میکسیکو یونیورسٹی کے محققین نے پہلے اس کی آکسیجن آئسوٹوپس کو دوسرے مریخی شہابیوں سے ملا کر اسے مریخی چٹان پہچانا تھا۔ اس کے بعد ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری کی مرکزی مصنفہ یانگ لیو نے غیر معمولی ساختیں اور معدنیات دریافت کیں، جن میں زرکون کے قلم بھی تھے جو درست عمر معلوم کرنے میں کام آتے ہیں۔ فرانسوا ٹیسو کی قیادت میں کیل ٹیک کی ٹیم نے موقع پر رُوبیڈیم-اسٹرانشیم طریقہ استعمال کیا، جس میں ناخن سے چھوٹے ٹکڑے کے انفرادی معدنی ذرات کا تجزیہ کیا گیا اور نایاب نمونہ محفوظ رہا۔ نتائج سے ظاہر ہوا کہ مریخی پانی نے اس چٹان کو تقریباً 4.1 ارب سال پہلے تبدیل کیا، جس سے اشارہ ملتا ہے کہ چٹان خود اس سے بھی پہلے بنی تھی۔ جون میں سائنس ایڈوانسز میں شائع ایک الگ مقالے نے شہابیے میں پانی کی مقدار بیان کی تھی۔

ناسا کے مطابق تیغازا 001 میں آتشی معدنیات کا ایسا امتزاج ہے جو ریکارڈ کرتا ہے کہ مریخ کی پرت ٹھنڈے ہوتے میگما سے کیسے بنی اور بعد میں زیرِ زمین پانی سے کیسے بدلی؛ اس کی معدنیات ناسا کے مارس ری کنیسنس آربیٹر کے سیارے کے جنوبی بلند علاقوں میں مشاہدات سے ملتی ہیں۔ مریخ پر یہ ٹھیک کہاں سے آیا، یہ کوئی نہیں جان سکتا، مگر مقالہ کئی ممکنہ علاقے بتاتا ہے۔ اب ناسا کے ایمز ریسرچ سینٹر میں کام کرنے والی لی سیپر نے اسے ایسے علاقے سے مریخی پرت کا پہلا ٹکڑا کہا جس کا پہلے کبھی نمونہ نہیں ملا تھا، اور لیو نے بتایا کہ مقالے کے ایک جائزہ کار نے اسے مریخ کے لیے روزیٹا اسٹون کہا۔ محققین کہتے ہیں کہ یہ صرف آغاز ہے اور وہ ابتدائی مریخ کے آبی چکر پر مزید مطالعات کی توقع رکھتے ہیں۔