JAMA کے ایک مطالعے کے مطابق سب سے زیادہ کیفین والی کافی پینے والوں میں سالانہ فی ایک لاکھ افراد 141 ڈیمنشیا کیس ملے، جبکہ شاذ و نادر پینے والوں میں 330؛ یہ تعلق ہے، سبب کا ثبوت نہیں۔

امریکی بالغوں پر ایک طویل مطالعہ، جو JAMA (2026؛ جلد 335، شمارہ 11) میں شائع ہوا، بتاتا ہے کہ باقاعدگی سے کیفین والی کافی پینے کا تعلق ڈیمنشیا کے نمایاں طور پر کم خطرے سے ہے۔ 43 سال تک کی نگرانی میں محققین نے زیادہ کیفین والی کافی پینے والے بالغوں میں سالانہ فی ایک لاکھ افراد 141 ڈیمنشیا کیس درج کیے، جبکہ شاذ و نادر یا کبھی نہ پینے والوں میں یہ تعداد فی ایک لاکھ 330 تھی۔ امریکن فزیولوجیکل سوسائٹی کے جاری کردہ تحقیقی خلاصے کے مطابق سب سے مضبوط تعلق روزانہ دو سے تین کپ پینے والوں میں نظر آیا۔

یہ رجحان صرف تشخیص شدہ ڈیمنشیا تک محدود نہیں تھا۔ زیادہ کیفین والی کافی پینے والوں میں سے 7.8 فیصد نے موضوعی ادراکی کمی، یعنی یادداشت یا سوچ میں خود محسوس کی گئی تبدیلیاں، بتائیں، جبکہ شاذ و نادر یا کبھی نہ پینے والوں میں یہ 9.5 فیصد تھی۔ یہ تعلق شرکاء کے ڈیمنشیا کے جینیاتی خطرے سے قطع نظر نظر آیا۔ چائے کا تعلق بھی بہتر ادراکی نتائج سے تھا، سب سے مضبوط تعلق روزانہ ایک سے دو کپ پر تھا، لیکن مطالعے نے کیفین والی اور بغیر کیفین والی چائے میں فرق نہیں کیا۔ ڈی کیف کافی میں یہی تعلق نظر نہیں آیا، اور سب سے موزوں حد سے زیادہ پینے سے اضافی تحفظ ظاہر نہیں ہوا۔

محققین زور دیتے ہیں کہ یہ نتائج تعلق دکھاتے ہیں، یہ ثابت نہیں کرتے کہ کافی ڈیمنشیا کو روکتی ہے، اور کافی پینے والوں اور نہ پینے والوں کے درمیان دیگر فرق بھی نتائج میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ ڈی کیف میں نظر آنے والا فرق کیفین کے کردار کی تحقیق کو قابلِ غور بناتا ہے مگر اسے سبب ثابت نہیں کرتا۔ 'Coffee and Tea Intake, Dementia Risk, and Cognitive Function' کے عنوان سے مقالے کے مصنفین میں یو ژانگ، فرینک بی ہو اور ڈونگ ڈی وانگ شامل ہیں؛ یہ طے کرنے کے لیے مزید تحقیق درکار ہے کہ یہ مشروبات ڈیمنشیا کے خطرے پر براہِ راست اثر ڈالتے ہیں یا نہیں۔